خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 64 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 64

۶۳ برکات خلافت خلافت کی برکات کی جب بات اٹھتی ہے تو ان برکات سے مراد کوئی نئی اور الگ برکتیں نہیں ہیں جو نبوت کی برکتوں سے سوایا علاوہ ہیں۔نبوت کے بعد جب خدا تعالیٰ نبی کی جماعت میں خلافت جاری فرماتا ہے تو اس کی جملہ برکتیں اسی نبوت کا فیض اور تسلسل ہوتی ہیں جس کی وہ خلافت ہوتی ہے۔نبوت کی برکات ، اور اس کے اظلال وانوار ، خلافت کے ذریعہ مومنوں پر نازل ہوتے ہیں۔چنانچہ خلافت کی برکتوں کو اگر نبوت کی روشنی میں تلاش کریں تو قرآنِ کریم اور احادیث نبویہ میں ان برکتوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جو نبوت کے ذریعہ اس دنیا میں اتریں۔وہ برکتیں انفس و آفاق پر کائنات کی وسعتوں میں بھی پھیلی ہوئی ہیں اور اجتماعی اور انفرادی طور پر بھی دنیا کے ہر خطہ وقوم میں چمکتی ہیں۔نبوت کی عدم موجودگی میں خالی طور پر ان سب برکتوں کا نزول خلافت کے راستہ جماعتِ مؤمنین پر جاری رہتا ہے۔اور وہ برکتیں اس وقت تک جاری رہتی ہیں جب تک وہ جماعت اپنے ایمان کو اعمالِ صالحہ کے ساتھ مزین کئے رکھتی ہے۔اس جماعت پر خدا تعالیٰ کا قائم کردہ خلیفہ خلقی طور پر نبوت کی تأثیر، اس کی برکات، اس کے انوار اور کمالات اپنے ہمراہ لاتا ہے۔اس کے اس مقام اور مرتبہ کا عرفان بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو طلیقہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو فنی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسولِ کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں ، لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے