خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 45
۴۵ دعاؤں کو بھی شرف قبولیت بخشتا ہے چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دُعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے“۔منصب خلافت، انوار العلوم جلد ۲ صفحه ۳۲) خدا تعالیٰ جسے اپنا خلیفہ بناتا ہے اسے ایک اور امتیازی صفت بھی عطا کی جاتی ہے جو بغیر خدا تعالیٰ کے انتخاب، اصطفاء اور اس کی عطا کے ممکن ہی نہیں اور وہ یہ ہے کہ اس کے دل پر حق کی تحبی ہوتی ہے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۱۰ صفحه ۲۳۰،۲۲۹) علی ہذا القیاس دیگر تمام صفات میں خلیفہ راشد دیگر افرادِ امت سے جو مختلف صفاتِ حسنہ سے متصف ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی جناب سے عطا کردہ ایک الگ شان اور امتیازی مقام رکھتا ہے۔یہ ایک الگ بحث ہے اور دنیا میں ایسی نظیریں موجود ہیں کہ غیر نبی کو بعض صلاحیتیوں یا صفات میں نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے یا غیر خلیفہ کو خلیفہ راشد پر۔مگر جزوی فضیلت بہر حال ایک جزوی بات ہے۔اس کی وجہ سے کسی کا نبی یا خلیفہ سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔صفات الہیا اور صفات حسنہ کے آئینہ میں سی بھی ایک اصولی بات ہے کہ خلیفہ راشد کی یہ الگ شان اور اس کا یہ امتیازی مقام اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ صفات الہیہ اور تمام انسانی صفات حسنہ میں اس دور کے جملہ انسانوں کے مقابل پر ایک جامعیت اور مکمل توازن رکھتا ہے۔صفات حسنہ میں مکمل تو ازن عطا کرنا سوائے خدا تعالیٰ کی