خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 35
۳۵ وو فقیہ، محدث، متکلم ، حافظ ، بادشاہ ، امیر یا وزیر کے تصوّر کرنا چاہئے۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک خاص منصب پر دلالت نہیں رکھتا۔جو کوئی بھی اس صفت سے متصف اور اس منصب پر قائم ہو وہی اس لقب سے ملقب ہوسکتا ہے۔منصب امامت از حضرت سیدمحمد اسمعیل شہید (مترجم) صفحه ۸۲، ۸۳ مطبوعہ ۱۹۴۹ ، نا شرحکیم محمدحسین مومن پورہ لاہور ) یہ دوسرے سلسلہ کے خلفاء ہیں جو خواہ ولی اللہ، مجتہد، عالم، عابد، زاہد، فقیہ، محدث، متکلم ، حافظ، بادشاہ، امیر یا وزیر ہوں مگر وہ خلافت کی صفت سے متصف اور اس منصب پر قائم ہوں وہ اس لقب سے ملقب ہو سکتے ہیں۔اس کی وضاحت حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے حسب ذیل بیان میں مذکور ہے جو پہلے بھی درج کیا گیا تھا کہ: آیت استخلاف میں خلافت کے ایک دوسرے سلسلہ کا وعدہ بھی دیا گیا ہے جو پہلی دو شاخوں ( یعنی آنحضرت ام کے بعد جاری ہونے والی خلافت راشدہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد جاری ہونے والی خلافت راشدہ۔ناقل ) سے مختلف ہے۔ہے تو یہ خلافت حقہ ہی لیکن ہم نے ایک اصطلاح بتائی تھی۔اس لئے اس کو ہم خلافتِ راشدہ نہیں کہتے۔گو رشد سے وہ بھی بھری ہوئی ہے۔ہم اسے خلافت ائمہ کہیں گے اور خلافت کا یہ سلسلہ جو ہے اس کی رُو سے امت محمدیہ میں سینکڑوں ، ہزاروں بلکہ لاکھوں 66 خلفاء پیدا ہوئے۔کچھ انبیاء کے نام سے اور کچھ ربانی علماء کے نام سے۔“ (الفضل ربوه ۲۶ ؍ دسمبر ۱۹۶۸ء) ۴ : خلافت حکومت و ملوکیت : یہ خلافت کی وہ قسم ہے جو حکومت یا ملوکیت سے تعلق رکھتی ہے۔اس کا اُس خلافتِ روحانی سے گو تعلق نہیں ہے جو ایمان اور اعمال صالحہ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔لیکن اس کا ذکر چونکہ قرآن کریم میں الگ حوالہ کے ساتھ آتا ہے اس لئے محض علمی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا بھی ذکر کیا جا رہا