خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 403 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 403

۳۹۹ امام وقت پر آمریت کا الزام : حضرت خلیفہ مسیح الاول پر ایک خطر ناک اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ آپ جماعت پر اپنا نعلم ٹھونس کر آمر بن بیٹھے ہیں اور جماعت کے جمہوری نظام کو آمریت میں تبدیل کر رہے ہیں۔یہ اعتراض اس لئے سرے سے ہی غلط ہے کہ اعتراض کرنے والے منصب خلافت کی گنہ سے بے بہرہ اور اس کی حقیقت و عظمت سے بیگانہ ہوتے ہیں۔خلافت راشدہ کو جمہوریت کے بگڑے ہوئے مغربی تصور پر تولنا اور پرکھنا ایک قیاس مع الفارق ہے۔یعنی ان دونوں کی بہت سی بنیادی اقدار ایسی ہیں جن کا اطلاق ایک دوسری پر نہیں ہوسکتا۔لہذا ایک کو دوسری پر قیاس کرنے سے نتیجہ ہمیشہ غلط نکلتا ہے۔چنانچہ ایسے معترض اسی غلط نتیجہ کے شکار ہو کر دھو کہ کھاتے ہیں۔حقیقت حال یہ ہے کہ جمہوریت متقاضی ہوتی ہے اکثریت کے ووٹ کی۔اس کا طریق یہ ہے کہ ووٹ حاصل کرنے والے لوگ ووٹروں کو ایسے انداز میں سبز باغ دکھاتے ہیں کہ ان کے دام میں آکر وہ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ کے مصداق بن جاتے ہیں۔اس کے برعکس خلافت کا انتخاب کسی کی خواہش، مطالبہ یا درخواست کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ پہلے خلیفہ کی وفات کے بعد بغیر کسی پراپیگنڈہ اور درخواست کے ہوتا ہے۔محض اللہ ہونے کی وجہ سے اس انتخاب پر کلیۂ خدا تعالیٰ کا تصرف ہوتا ہے۔خلافت راشدہ ایک الہی نظام ہے اور اس کی ماہیت یہ ہے کہ یہ اپنے پیشرو مامورمن اللہ کی تعلیم پر اور اس کے نقش قدم پر براہ راست خدا تعالیٰ سے رشد و فراست کے ذریعہ کام کرتی ہے۔وہ إِنَّ هُدى اللَّهِ هُوَالْهُدَی (البقرہ:۱۲۱) ( کہ اصل راہنمائی خدا تعالیٰ کی رہنمائی ہے ) کے تحت خدائی رشد و ہدایت کے ذریعہ اپنے متبعین کی راہنمائی کرتی ہے۔خلافت وہ نور خداوندی ہے جواز راہ برکات رسالت اور انوار نبوت اکثریت کی راہنمائی کرتی ہے۔مغربی جمہوریت کی طرح جمہوری اکثریت اس کی راہنمائی نہیں کرتی۔خلافت جمہوریت کا وہ حقیقی تصور ہے جس میں خلیفہ وقت اور اس کی جماعت میں رشتہ محبت و وابستگی اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ ان میں سے محبوب اور محب کا امتیاز مٹ جاتا ہے۔اس