خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 364
رد فتنه از انوارِ خلافت ظاہر ہے کہ ایسے خیالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں سے صاف انحراف ، آپ کے اور آپ کے مقدس خلفاء کے اجماع سے واضح رُوگردانی اور جماعت کے ایک ثابت شدہ مسلک وعقیدہ سے کھلی کھلی بغاوت ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی مختلف عبارتوں اور تشریحات سے نیز حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی سنت سے واضح ہے کہ جماعت میں خلافت ، خلافت راشدہ ، خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی تائید سے ہم آہنگ ہے۔اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت نے اسی خلافت کو آیت استخلاف کے مطابق ثابت فرمایا ہے۔پس اس کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش مردود ہے اور اس کے برعکس کوئی بھی تشریح قطعی طور پر قابل رڈ ہے۔خلافت کے موجودہ طریق پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، آپ کے مؤید من اللہ تمام خلفائے راشدین نیز جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا اجماع ہے۔معترض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں سے خلافتِ روحانی ر باطنی اور خلافت ظاہری کی اصطلاحات کو بنیاد بنایا ہے۔اس نے کوشش کی ہے جماعت احمدیہ میں جاری خلافت راشده ، خلافت حققہ اسلامیہ، علی منہاج النبوۃ کو ظاہری خلافت کا نام دے کر عام ملوکیت و بادشاہت کی طرز کا نظام ثابت کرے۔بظاہر یہ ایک بد عقیدہ شخص کی ایک معمولی سی کوشش معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں جاری قدرتِ ثانیہ کے علیٰ منہاج النبوت نظام اور منصب پر بدعتی حملہ ہے۔ظاہر ہے کہ ایک ہی وقت میں دو برسر اقتدار خلفاء کا تصوّر توحید کے بنیادی منشاء اور اس کے نظام کے سراسر خلاف ہے، جسے آیت کریمہ لَوْ كَانَ فِيْهِمَا الِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا“ (سورۃ الانبیاء: ۲۳) ایک ہی ضرب میں پاش پاش کرتی ہے۔کہ اگر ان دونوں ( یعنی زمین و آسمان )