خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 356
۵۲ میں اسلام کو خوفناک شورشوں کاسامنا کرنا پڑا۔دوسرا پہلو اسلام کی اعتقادی اور دینی حالت کا ہے۔جس شخص نے اسلام کو اس پہلو سے قبول کیا اور اپنے اندر روحانی زندگی پیدا کی اس پر کبھی موت نہ آسکی۔وہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی اسلام سے پوری طرح وابستہ تھا اور بعد میں خلفاء کے زمانوں میں بھی وہ اس کے روحانی ثمرات سے متمتع ہوتا تھا۔اس پہلو سے اسلام سے ارتداد کا کوئی نمونہ نظر نہیں آتا۔پس الہی سلسلوں سے ارتداد خدا تعالیٰ کی ایسی تقدیر ہے جس سے ان میں کھرے اور کھوٹے میں تمیز ہو جاتی ہے گو اس سے ان کی تعداد معین نہیں رہتی۔اس میں داخل ہوتے وقت تو ایک حد تک ان کی گنتی ہو جاتی ہے مگر جب ان میں سے بعض نکلتے ہیں تو ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔بعینہ جماعت احمدیہ میں بیعتوں کی تعداد کا تعین بھی گزشتہ الہی سلسلوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد اور ان کے شمار سے مختلف نہیں ہے۔جماعت میں داخل ہونے والوں کی تعداد کا اعلان ان شماریات پر ہوتا ہے جو ہر ملک اور وہاں کی جماعت میں اس سال داخل ہونے والوں کی مرکز سلسلہ پہنچتی ہے۔رابطہ کا انقطاع ارتداد کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض ممالک میں خصوصاً افریقہ میں کسی روایتی بادشاہ (چیف یا پیراماؤنٹ چیف) کے احمدی ہو جانے کی وجہ سے سارا قبیلہ جماعت میں داخل ہو جاتا ہے۔لیکن بد قسمتی سے بعض اوقات ملکی حالات یا کسی اور وجہ سے اس سے مستقل رابطہ کا سلسلہ قائم نہیں رہتا۔نتیجہ وہ سارا قبیلہ اپنی پہلی حالت میں لوٹ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کا جماعت میں اندراج تو ہو جاتا ہے مگر عملاً وہ جماعت کا حصہ نہیں بن سکتے۔یہ مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ آنحضرت دم کے زمانہ میں بھی ایسا ہوا ہے کہ قبیلہ کے سردار نے سارے قبیلہ کی طرف سے بیعت کی اور اپنے ساتھ قبیلہ کو بھی اسلام میں داخل کیا۔بنو اسد کے سردار طلیحہ اور بنو فزارہ کے سردار عیینہ اور کئی سرداروں کی ایسی مثالیں موجود ہیں۔جو بعد میں اپنے پورے قبیلوں سمیت یا جزوی طور پر ارتداد کر گئے۔