خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 357
۵۳ فعالیت: کسی مذہب میں صرف داخل ہونے والوں ہی میں نہیں ، اس مذہب میں پیدا ہونے والوں میں بھی ایک مخصوص تعداد ہمیشہ ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو عبادات اور دینی مساعی میں مصروف اور خدمت کے کاموں میں مشغول نظر آتی ہے۔اسی طرح کچھ لوگ میانہ رو ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پیچھے رہنے والے ہوتے ہیں۔یہ تینوں قسم کے لوگ ہر دور میں ایک خاص تناسب سے ہر مذہب و ملت میں ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جماعت احمدیہ میں عبادات و دین سے وابستہ اور دینی کاموں اور مساعی میں سرگرم لوگوں کی تعداد تناسب کے لحاظ سے اس دور کی دیگر جماعتوں سے بہت زیادہ ہے اور اس کی کامیابیاں دیگر تمام جماعتوں سے مجموعی لحاظ سے بھی کہیں زیادہ عظیم ہیں۔اس کے باوجود نقا دو حستاد سبھی جماعت کے سب افراد کو سرگرم دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس جماعت کا ہر فردا سے معاشرہ میں چلتا پھرتا نمایاں نظر آنا چاہئے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معیار تنقید کو وہ دیگر جماعتوں اور مذاہب پر لاگو نہیں کرتے۔جماعت میں بیعتوں کی تعداد کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کی یہ نا انصافی ہے جو وہ جماعت سے یا لاعلمی کی بناء پر یا کرتے ہیں یا بغض اور حسد کی بناء پر۔اگر یہ لوگ اس پیمانہ پر دیگر مذاہب کی پیش کردہ تعداد کو پرکھیں تو اس کے مقابل پر عیسائیت تو کیا اسلام بھی آٹے میں نمک کے برابر نظر آئے گا۔پس یہ قطعی حقیقت ہے کہ ان کی تنقید کی بنیا د غلط ہے۔جماعت احمدیہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خلافت حقہ ، خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہے۔اس جماعت کو جعلی بنیادوں پر اپنی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے نہ عادت۔ہر شعبہ میں اس کی روز افزوں ترقی اور اس کی تعداد میں شب و روز اضافہ اور ہر ملک و دیار میں بکثرت فعّال کارکنوں کا بڑھتے چلے جانا وغیرہ اس کی سچائی کا آئینہ دار اور منہ بولتا ثبوت ہے۔