خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 350 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 350

۳۴۶ ہے تو اسے حسب ذیل حقائق کی روشنی میں پرکھا جا سکتا ہے۔بیعتوں کا حصول اور ان کا اندراج: جماعت میں داخل ہونے والوں کی تعداد یا ان کی بیعتوں کا شمار ایک ایسا طریق ہے جو ابتداء ہی سے آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق اور آپ کے اختیار کردہ طریق پر مبنی ہے۔آنحضرت ا م کے زمانہ میں بسا اوقات جب کسی قبیلہ کی طرف سے کوئی وفد مدینہ آتا تو وہ خود بھی بیعت کرتا اور اپنے قبیلہ کی طرف سے سب افراد کی بیعت کا اقرار کر کے جاتا تھا۔اس قبیلہ کی بیعتوں کا شمار سوائے ایک موٹے اندازہ کے اور کچھ نہ تھا۔تاریخ اسلام میں ایسے وفود کی تعداد ایک سوساٹھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔آنحضرت ہم نے دعوت و تبلیغ پر مبنی مختلف اطراف میں کئی مہمات بھی بھجوائیں نیز مبلغین بھی کئی علاقوں کی طرف روانہ فرمائے۔چنانچہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ ان مبلغین اور مہمات کے ذریعہ کئی علاقے حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ان کی تعداد کا معتین اندازہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہاں حتمی شمار کرنا ممکن تھا کہ آیا اس علاقہ یا قبیلہ کے سارے افراد مسلمان ہوئے تھے یا ایک اندازہ سے اس سارے علاقہ یا قبیلہ کو مسلمان شمار کیا گیا تھا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض قبائل خاص طور پر ایسے تھے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا مگر اسلامی سلطنت کے نظام میں داخل تھے۔لیکن یہ قطعی حقیقت ہے کہ ان وجوہات کی بناء پر الا ماشاء اللہ سارے عرب کو مسلمان سمجھا گیا۔جماعت احمدیہ میں گو مسلسل اکا دُکا انفرادی طور پر افراد اور گھرانے ہر ملک میں بیعت کر کے اس کے ممبر بنتے رہتے ہیں اور ان کا اندراج بھی بہت معتین طور پر ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے۔لیکن بعض ممالک اور علاقوں میں قبائل یا قومیں اسی طریق پر گروہ در گروہ بھی جماعت میں داخل ہوتی ہیں جس طریق پر قرونِ اولیٰ میں لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے۔البتہ جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد کے اندراج کا با قاعدہ نظام موجود ہے۔جس علاقہ میں جتنی بیعتیں ہوتی ہیں ان کا ساتھ ساتھ اندراج کیا جاتا ہے لیکن بعض جگہوں پر یہ تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے تو ان کے اندراج میں ایک لمبا عرصہ لگتا ہے۔بلکہ بعض اوقات وہاں بیعتوں میں مسلسل اضافہ اندراج کی رفتار