خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 317 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 317

۳۱۳ فیصلہ کی اطاعت دراصل طاعت درمعروف ہے سوائے اس کے کہ اس کے کسی حکم سے معصیۃ اللہ یا معصیۃ الرسول ہوتی ہو۔حضرت ابو بکر صدیق کا یہ فرمان نیز حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی اور حضرت خالد بن ولیڈ والے دونوں واقعات ثابت کرتے ہیں کہ کسی امیر یا لیڈر کا ایسا حکم یا فیصلہ جو کھلا کھلا معصیۃ اللہ اور معصیۃ الرسول پر مبنی ہو اس میں اطاعت جائز نہیں۔اس کے علاوہ ہر حکم کی اطاعت، طاعت در معروف ہے۔معروف کی شرط کیوں؟ الغرض اگر یہ ممکن ہی نہیں کہ اسلام کی کوئی تعلیم یا کوئی حکم خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ ہو یا رسول کی طرف سے، یا خلیفہ راشد کی طرف سے ، وہ منکرات میں سے ہو، یا بالفاظ دیگر یہ کہ نبی اللہ تعالی کے احکام کی تعیل کا علم دیتا ہے اور خلیفہ، اللہ اور اس کے نبی کی تعلیم پر عمل کرنے کا حکم دیتا ہے، اس لئے ان کے احکام اور فیصلے معروف ہوتے ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر ان کی اطاعت کو خاص طور پر معروف کے ساتھ کیوں مشروط کیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے ایک مبائع یعنی بیعت کنندہ کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ حقیقی ، اصل اور غیر مشروط اطاعت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔رسول یا خلیفہ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے اور اسی سے منسلک ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اور خلیفہ راشد با وجودمومنوں کے مطاع اور آقا ہونے کے خود اللہ تعالیٰ ، اس کے حکم ، قانون اور شریعت کے اطاعت گزار اور مطیع ہوتے ہیں۔یعنی صرف اور صرف ایک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اطاعت کے قانون سے بالا ہے۔لہذا اس اصل کے تحت الہی ادب کا تقاضہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر ذات کی اطاعت مشروط ہو۔اس مشروط حیثیت کے اظہار کے لئے رسول اور خلیفہ کے احکام، ارشادات اور فیصلوں کے ساتھ لفظ ” معروف“ کولازم رکھا گیا ہے۔اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ رسول اور خلیفہ کے احکام کی