خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 205 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 205

درستمبر ۱۹۳۴ء کو بغرض تعلیم انگلستان کے لئے روانہ ہوئے۔آکسفورڈ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے نومبر ۱۹۳۸ء میں واپس تشریف لائے۔یورپ سے واپسی پر جون ۱۹۳۹ء سے اپریل ۱۹۳۴ ء تک جامعہ احمدیہ کے پرنسپل رہے۔فروری ۱۹۳۹ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر بنے۔اکتوبر ۱۹۴۹ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بنفس نفیس خدام الاحمدیہ کی صدارت کا اعلان فرمایا تو نومبر ۱۹۵۷ء تک حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ بحیثیت نائب صدر مجلس کے کاموں کو نہایت عمدگی سے چلاتے رہے۔آپ نے مئی ۱۹۴۴ء سے لے کر نومبر ۱۹۶۵ء تک ( یعنی تا انتخاب خلافت ) تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے۔۱۹۴۷ء میں تقسیم پاک و ہند کے موقع پر باؤنڈری کمیشن کے لئے متعلقہ امور، کوائف اور اعداد و شمار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔قیام پاکستان کے بعد ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء تا ۱۵ نومبر ۱۹۷ ء حفاظت مرکز احمدیت کے لئے قادیان میں قیام کیا۔جون ۱۹۴۰ء سے ۱۹۵۰ء تک فرقان بٹالین میں کشمیر کے محاذ پر داد شجاعت دیتے رہے۔آپ اس بٹالین کی انتظامی کمیٹی کے ممبر تھے۔۱۹۵۳ء میں پنجاب میں فسادات ہوئے اور مارشل لاء کا نفاذ ہوا تو اس وقت آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔اس طرح سنت یوسفی کے مطابق آپ کو کچھ عرصہ قید وبند کی صعوبتیں جھیلنا پڑ یں۔۱۹۵۴ء میں جلس انصار اللہ کی زمام قیادت آپ کے سپرد کی گئی۔مئی ۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ کا صدر مقرر فرمایا۔اس عہدہ پر آپ تا انتخاب خلافت فائز رہے۔