خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 152
۱۵۰ جاگیریں دیں۔جانوروں کے لئے چھا گا ہیں، نوائیں۔آپ کے دور میں تمام عالم اسلام میں خوشحالی کا دور دورہ تھا۔مسجد حرام کی توسیع آپ نے ۲۶ھ میں مسجد حرام سے ملحقہ بعض مکانات خرید کر ان کی زمین کو مسجد حرام میں شامل فرما کر اس کی توسیع کروائی۔حدود حرم کے نشانوں کی تجدید اسی سال آپ نے حدود حرم کے نشانوں کی تجدید کرائی اور ایک کمیٹی تشکیل دی تا کہ وہ اس کے نشانات و علامات کا خیال رکھے اور ہر سال ان نشانوں کی مرمت وغیرہ کرائے جو اس کی حدود کی تعین کے لئے نصب کئے گئے ہیں۔مسجد نبوی کی توسیع : ۲۹ھ میں آپ نے مسجد نبوی کی توسیع اور تعمیر نو کروائی۔اس کی تعمیر نو تراشیدہ پتھروں سے کی گئی اور ستون بھی پتھروں کے بنوائے اور چھت پر ساگوان کی لکڑی لگوائی۔توسیع کے بعد مسجد کا طول ایک سو ساٹھ ہاتھ اور عرض ایک سو پچاس ہاتھ ہو گیا۔شہادت: آپ کو بروز جمعہ ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ ، آپ کے گھر پر حملہ کر کے شہید کر دیا گیا۔اگلے روز آپ کی وصیت کے مطابق حضرت زبیر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر جنت البقیع میں تدفین کی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلفائے ثلاثہ کے بارہ میں فرماتے ہیں : أَظْهَرَ عَلَيَّ رَبِّي أَنَّ الصِّدِيْقَ وَالْفَارُوْقَ وَعُثْمَانَ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الصَّلَاحِ وَالْإِيْمَانِ وَكَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ أَثَرَهُمُ اللَّهُ وَخُصُّوا بِمَوَاهِبِ الرَّحْمَنِ 66 سر الخلافہ روحانی خزائن جلد ۸ صفحه (۳۲۶) کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم سب اہلِ صلاح اور اہلِ ایمان تھے اور یہ لوگ تھے جن کو خدائے رحمن نے اپنے حضور میں برگزیدہ فرمایا اور اپنی موہبت سے خاص کیا تھا۔