خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 114
۱۱۳ آسکتا ہے؟“ اس کے بعد آپ فر ماتے ہیں کہ 66 مسجد دتو اس وقت آیا کرتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔“ الفضل ۸ رابریل ۱۹۸۴ء) آپ نے یہ فرق بیان فرمایا ہے کہ مجد داس وقت آیا کرتا ہے جب خلافت راشدہ اُٹھ جائے اور دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔لیکن خلافت اس وقت قائم ہوتی ہے جب نبی ایک ایسی جماعت چھوڑ کر جاتا ہے جو ایمان اور اعمال صالحہ کے لحاظ سے اس میں بگاڑ نہیں ہوتا اور وہ اصلاح یافتہ ہوتی ہے اور اس معیار پر ہوتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا وعدہ قیام خلافت پورا ہوتا ہے۔پھر جب وہ جماعت ایمان اور اعمال صالحہ کے اس معیار سے گر جاتی ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ ان میں سے خلافت اٹھالیتا ہے۔ایسے دور میں جب خلافتِ راشدہ، خلافت علی منہاج النبوة موجود نہ ہو تو مجد دیت اس کی قائمقامی میں کام کرتی ہے۔یعنی اس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب جماعتِ مومنین سے خلافت کی نگرانی اٹھ جائے اور اس میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہو تو ایسے حالات میں وقتاً فوقتاً مجددین اس کی تجدید اور اصلاح کے لئے ظاہر ہوتے ہیں۔پس خلافت کا قیام اصلاح یافتہ مومنوں میں ہوتا ہے اور مجددیت اس وقت آتی ہے جب لوگ بگڑ چکے ہوں۔اس لحاظ سے امت کی کوئی صدی مسجد دواصلاح سے خالی نہیں رہی۔(۱۵) قبولیت دعا کا وسیلہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے دُعا کی اہمیت پر متعد دجگہ روشنی ڈالی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے: " قُلْ مَا يَعْبُوبِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاءُ كُمْ (الفرقان : ۸۷) کہ تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعانہ رَبِّيا ہوتی تو میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہ ہوتی۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ " ” جو شخص دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا