خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 103
۱۰۲ رُسَلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِى الْحَياةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْأَشْهَادُ “ (المومن : ۵۲) اس پر دال ہے کہ یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے ، اس دنیا کی زندگی میں بھی مددکریں گے اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے کئے جائیں گے۔فرشتے خلافت کی وجہ سے مومنوں کے لئے حفاظت و مدد کے سامان کرتے ہیں۔چنانچہ جب حضرت عثمان کے خلاف منافق اٹھے تو اسی حقیقت کو حضرت عبداللہ بن سلام نے فتنہ پردازوں کے سامنے کھلی کھلی تنبیہہ کی صورت میں پیش کیا اور بتایا کہ دراصل خلافت کا وجود مومنوں کے لئے تائید وعون ملائکہ کا سبب ہے۔فرمایا: فَوَاللَّهِ إِنْ سَلَلْتُمُوْهُ لَا تَعْمَدُوْهُ وَيْلَكُمْ !۔۔۔۔۔۔۔۔فَإِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَا يَقُوْمُ إِلَّا بِالسَّيْفِ، وَيْلَكُمْ إِنَّ مَدِيْنَتَكُمْ مَحْفُوفَةٌ بِمَلَائِكَةِ اللهِ، وَاللَّهِ إِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَتْرَكُنَّهَا ، 66 (طبری۔ذکر الخبر عن قتل عثمان بن عفان) کہ اگر تم نے ( حضرت عثمان کو قتل کیا تو وہ تلوار جو اس وقت نیام میں ہے اگر بے نیام ہوگئی تو پھر وہ قیامت تک نیام میں نہ جا سکے گی۔اگر تم نے ( حضرت عثمان ) کو قتل کیا ( اور خلافت کے نظام کو پامال کرنے کی کوشش کی) تو یا درکھنا کہ مدینہ جس کو اللہ تعالیٰ کے فرشتے گھیرے ہوئے ہیں وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے۔یہ اس لئے ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی خلافت کی اطاعت اور اس کے کاموں کے لئے فرشتوں کو مامور کیا ہے۔چنانچہ خلیفہ راشد کی اطاعت کرنے والے علی قدر ظرف واستطاعت فرشتوں کی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔اس طرح وہ ایک لحاظ سے فرشتوں کے ہم جنس بنتے ہیں تو آسمان سے ملائکتہ اللہ کا اس زمین میں اپنے ان ہم صفات لوگوں پر نزول ہوتا ہے اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔خلافت کے ذریعہ نزولِ ملائکہ کے بارہ میں حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں: