خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 37
۳۷ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اینم نے فرما یا : سنو اور اطاعت کرو۔خواہ تم پر ایسا حبشی غلام (حاکم بنا دیا جائے) جس کا سر منقہ کی طرح (چھوٹا ) ہو۔( صحیح بخاری، کتاب الاحکام، باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية ) حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت مصلای ایام کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا وہ اللہ تعالیٰ سے (قیامت کے دن ) اس حالت میں ملے گا کہ نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی نہ عذر۔اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے امام وقت کی بیعت نہیں کی تھی تو وہ جاہلیت اور گمراہی کی موت مرا۔( صحیح مسلم کتاب باب وجوب ملازمته جماعة المسلمين ) پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی تم نے فرمایا: تنگدستی اور خوشحالی ، خوشی اور ناخوشی حق تلفی اور ترجیحی سلوک، غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سنا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔( صحیح مسلم کتاب الامارة ) پھر حضرت عبادہ بن ولید اپنے دادا کی روایت اپنے والد کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت سال اینم سے سننے اور بات ماننے کی بنیاد پر بیعت کی تھی سختی اور راحت اور خوشی اور نا خوشی میں خواہ ہمارے حق کا خیال نہ رکھا جائے اور اس بنیاد پر کہ ہم جھگڑا نہ کریں گے۔اس شخص کی سرداری میں جو اس کے لائق ہے اور ہم سچ بات کہیں گے جہاں ہوں گے۔اللہ کی راہ میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔( صحیح مسلم کتاب الامارہ۔باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیة و تحریمھا فی المعصية ) ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت لم نے فرمایا: سنا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔خواہ وہ امر اس کو پسند ہو یا