خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 36 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 36

عمل نہیں کرتا تو اس کی مثال بھی غیر مبائعین یا منکرین جیسی ہی ہے۔بلکہ ان سے بڑھ کر بدنصیب ہے اور انکی نسبت زیادہ قابل مواخذہ ہے۔خلافت سے ہی نظام جماعت منضبط ہے۔کیونکہ نظام جماعت خلیفہ کی طرف سے قائم کردہ SET-UP ہے جو مفوضہ کاموں کے بآسانی انتظام کے لئے ہوتا ہے۔اس نظام کی مکمل اطاعت بھی ضروری ہے۔اس سے جڑے رہنا لازمی ہے۔اس سے ہٹ کر اطاعت اور وفاداری کا دم بھر نا خیال خام ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول نہیں بلکہ فسق کی ایک کڑی ہے۔اطاعت کا پہلا زینہ تو یہ ہے کہ پہلے ایک مومن خلیفہ کی آواز کو سُنے۔اس کے لبوں اور زبان سے کب کیا نکلے ؟ اس کی جستجو میں ہمیشہ رہے۔قرآن مجید میں مومنین کی جماعت کا شعار سمعنا واطعنا کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔وہ ہمیشہ نیکی کی باتوں کو توجہ سے سنتے سمجھتے اور یادر کھتے ہیں اور پھر ان باتوں پر دل و جان سے عمل بھی کرتے ہیں۔جو شخص سنے گا نہیں وہ عمل کیا کرے گا؟ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ السلام نے فرمایا:۔أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَبْعِ وَالطَّاعَةِ ( ترمذی کتاب الایمان کتاب الاخذ بالسنة ) یعنی میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے نیز سُنے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ حصول تقویٰ کے دو بڑے زینے ہیں کان کھول کر ہدایات کا سننا اور ان پر عمل کرنا (اطاعت )۔پھر یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ السلام نے فرمایا: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ( بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة ) یعنی سنو اور اطاعت کرو۔