خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 59
۵۹ یہ خلافت کی ہی نعمت ہے جو جماعت کی جان ہے اس لئے اگر زندگی چاہتے ہیں تو خلافت احمدیہ کے ساتھ اخلاص اور وفا کے ساتھ چمٹ جائیں، پوری طرح سے وابستہ ہو جائیں کہ آپ کی ہر ترقی کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی مضمر ہے۔ایسے بن جائیں کہ خلیفہ وقت کی رضا آپ کی رضا ہو جائے۔خلیفہ وقت مطر کے قدموں پر آپ کا قدم اور خلیفہ وقت کی خوشنودی آپ کا سمح نظر ہو جائے۔“ (ماہنامہ خالد سید ناطاہر نمبر مارچ اپریل 2004ء صفحہ 4) ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیئے کہ۔۔۔استحکام خلافت کے لئے دعائیں کریں تا کہ خلافت کی برکات آپ میں ہمیشہ رہیں۔۔۔اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں۔۔۔اب احمدیت کا 66 علمبر دار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹارہنے والا ہے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2005ء) اسلام ، احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت اور نظام خلافت کے لئے آخر دم تک جد و جہد کرنی ہے اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا ہے۔اور اپنی اولاد کو ہمیشہ خلافت احمدیہ سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہنا ہے۔اور ان کے دلوں میں خلیفہ وقت سے محبت پیدا کرنی ہے۔یہ اتنا بڑا اور عظیم الشان نصب العین ہے کہ اس عہد پر پورا اترنا اور اس کے تقاضوں کو نبھانا ایک عزم اور دیوانگی چاہتا ہے۔“ (ماہنامہ الناصر جرمنی جون تا ستمبر 2003 صفحہ (1) یا درکھیں وہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح کی اس پیاری جماعت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی