خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 57
۵۷ کے انعام سے نوازا ہے۔ہم نے اس کا اہل بنے کی حتی المقدور کوشش کرنی ہے۔ہم نے اُن انعامات کے حصول کی کوشش کرنی ہے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے فرمایا ہے، جن پر خلافت کی نعمت اتاری گئی ہے۔ہم نے اُن اعمال صالحہ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔یاد رکھیں اگر آج ہم نے اپنی حالتوں کو تبدیل کرنے اور اس پر مستقل مزاجی سے قائم رہنے کی طرف توجہ نہ دی تو ہٹتے ہٹتے اتنی دور چلے جائیں گے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی اور نتیجہ پھر اُس انعام کے بھی مستحق نہیں ٹھہریں گے جو خلافت سے وابستہ ہے اور نہ صرف خود محروم ہورہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی محروم کر رہے ہوں گے۔۔۔آج ہمارا فرض ہے اور آج ہم نے اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ، اس نعمت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی نسلوں میں اس کی اہمیت کو قائم کرنا ہے۔اپنی نسلوں سے یہ عہد لینا ہے کہ چاہے جس طرح بھی ہو ، جان، مال، وقت اور اپنے نفس کی قربانی دیتے ہوئے خلافت احمدیہ کی حفاظت کرنی ہے اور ہمیشہ کرتے چلے جانا ہے۔اور اپنی نسل میں اپنی قوم اور دنیا میں اسلام اور احمدیت کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کرتے چلے جانا ہے۔۔۔66 الفضل انٹر نیشنل 24 مئی 2013 ء تا 30 مئی 2013 ، صفحہ 8) ”آپ میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ دعاؤں پر بہت زور دے اور اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھے اور یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھے کہ ساری ترقیات اور کامیابیوں کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی ہے۔وہی شخص سلسلہ کا مفید وجود بن سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ دنیا بھر