خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 39
۳۹ ہاتھ میں دیا تھا۔اگر تم چاہتے تو یہ چیز تم میں قائم رہتی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے الہامی طور پر بھی قائم کرسکتا تھا۔مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ اس نے یہ کہا کہ اگر تم لوگ خلافت کو قائم رکھنا چاہو گے تو میں بھی اسے قائم رکھوں گا۔گویا اس نے تمہارے منہ سے کہلوانا ہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔اب اگر تم اپنا منہ بند کرلو، یا خلافت کے انتخاب میں اہلیت مدنظر نہ رکھو تو تم اس نعمت کو کھو بیٹھو گے۔پس مسلمانوں کی تباہی کے اسباب پر غور کرو۔اور اپنے آپ کو موت کا شکار ہونے سے بچاؤ تمہاری عقلیں تیز ہونی چاہئیں اور تمہارے حوصلے بلند ہونے چاہئیں۔تم وہ چٹان نہ بنو جو دریا کے رخ کو پھیر دیتی ہے۔بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم وہ چینل (Channel) بن جاؤ جو پانی کو آسانی سے گزارتی ہے۔تم ایک ٹنل ہو جس کا کام یہ ہے کہ وہ فیضان الہی جو رسول کریم صلی یتیم کے ذریعہ حاصل ہوا ہے اسے آگے چلاتے چلے جاؤ۔اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے تو تم ایک ایسی قوم بن جاؤ گے جو کبھی نہیں مرے گی اور اگر تم اس فیضان الہی کے رستہ میں روک بن گئے ، اس کے رستہ میں پتھر بن کر کھڑے ہو گئے تو وہ تمہاری قوم کی تباہی کا وقت ہوگا۔پھر تمہاری عمر کبھی لمبی نہیں ہوگی اور تم اسی طرح مرجاؤ گے جس طرح پہلی قو میں مریں۔“ ( تفسير سورة النمل تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 429 تا430) تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز آئے تم فوراً اس پر لبیک کہو اور اس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے بلکہ اگر انسان اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتب بھی اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نماز توڑ کر خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز کا جواب دے۔یہی حکم