خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 40
اپنے درجہ کے مطابق خلیفۃ الرسول پر بھی چسپاں ہوتا ہے اور اس کی آواز پر جمع ہو جانا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔“ ( تقریر منصب خلافت بحوالہ نظام خلافت کی برکات اور ہماری ذمہ داریاں صفحہ 42) ”جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طور پر نہیں چل سکتے۔۔۔ان شرائط اور ذمہ داریوں میں سے ایک اہم شرط اور ذمہ داری یہ ہے کہ جب وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تو پھر انہیں امام کے منہ کی طرف دیکھتے رہنا چاہئیے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس کے قدم اٹھانے کے بعد اپنا قدم اٹھانا چاہیئے۔۔۔امام کا مقام تو یہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ پابندی کرے۔“ الفضل 5 جون 1937ء بحوالہ نظام خلافت کی برکات اور ہماری ذمہ داریاں صفحہ 43،42) اس بات کو خوب اچھی طرح یا درکھو کہ خلافت حبل اللہ ہے اور ایسی رسی ہے کہ اسی کو پکڑ کر تم ترقی کر سکتے ہو۔اس کو جو چھوڑے گا وہ تباہ ہو جائے گا۔“ درس القرآن بیان فرموده یکم مارچ 1912 ء بحوالہ درس القرآن صفحہ 67 تا 84 مطبوعہ قادیان نومبر 1912ء) ”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلافت اسلام کا ایک اہم جزو ہے اور جو اس سے بغاوت کرتا ہے وہ اسلام سے بغاوت کرتا ہے۔اگر ہمارا یہ خیال درست ہے تو جولوگ اس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہیں، ان کے لئے الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ کا حکم بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ خلافت کی غرض تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد عمل اور اتحاد خیال پیدا کیا جائے اور اتحاد عمل اور اتحاد خیال خلافت کے ذریعہ سے تبھی پیدا کیا جاسکتا ہے، اگر خلیفہ کی ہدایات پر پورے طور پر عمل کیا جائے اور جس طرح نماز میں امام کے رکوع کے ساتھ رکوع اور قیام کے ساتھ قیام اور