خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

by Other Authors

Page 14 of 68

خلافت کا عظیم الشان مقام و مرتبہ — Page 14

۱۴ سے حصہ پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ خلیفہ خود بناتا ہے گو کہ پاکوں کی جماعت کے افراد منتخب کرتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ منصب ہے جس سے ایک خلیفہ کو کبھی بھی معزول نہیں کیا جاسکتا نبوت کی نیابت سے سرفراز ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا خوداستاد بنتا ہے اور اسے معارف سے نوازتا ہے۔جہاں مومنین کے دلوں میں اس کی الفت پیدا کرتا ہے وہاں اس کے دل میں بھی ان کے لئے شفقت اور رافت پیدا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے ان کی تکلیف پہ وہ تڑپتا ہے اور ان کے لئے دعائیں کرتا ہے۔اس کو قبولیت دعا کا نشان دیا جاتا ہے۔اس کو ایک غیر معمولی رعب دیا جاتا ہے۔وہ دنیا پر بسنے والے انسانوں کا مطاع ہوتا ہے جس کی اطاعت اور پیروی مومنین پر عین فرض ہے اور اس سے انحراف کرتے ہوئے مرنا جاہلیت کی موت ہے۔اس سے وابستگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے وابستگی ہے۔خلیفہ اپنے زمانہ میں روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا نمائندہ اور محبوب ترین بندہ ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود منصب خلافت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔” خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تاقیامت قائم رکھے۔سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت ک تجویز کیا تا دنیا بھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔66 شہادت القرآن صفحہ 57 روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 353) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔”خوب یا درکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے۔۔۔اور درحقیقت قرآن شریف کے غور سے