خلافت حقّہ اسلامیہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 25

خلافت حقّہ اسلامیہ — Page 10

خلافت حقہ اسلامیہ 10 ناظر اور ممبر اور تحریک جدید کے وکلاء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے زندہ افراد اور اب نظر ثانی کرتے وقت میں یہ بات بھی بعض دوستوں کے مشورہ سے زائد کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ بھی جن کوفوراً بعد تحقیقات صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ صحابیت کا ٹیفکیٹ دیدے اور جامعتہ المبشرین کا پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعت ہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیر اور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔اسی طرح نظر ثانی کرتے وقت میں یہ امر بھی بڑھاتا ہوں کہ ایسے سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہ چکے ہوں۔گو انتخاب کے وقت بوجہ معذوری کے امیر نہ رہے ہوں۔وہ بھی اس لسٹ میں شامل کئے جائیں۔اسی طرح ایسے تمام مبلغ جو ایک سال تک غیر ملک میں کام کر آئے ہیں۔اور بعد میں سلسلہ کی طرف سے ان پر کوئی الزام نہ آیا ہو۔ایسے مبلغوں کی لسٹ شائع کرنا مجلس تحریک کا کام ہوگا۔اسی طرح ایسے مبلغ جنہوں نے پاکستان کے کسی ضلع یا صوبہ میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم سے کم ایک سال کام کیا ہو۔ان کی فہرست بناناصدرانجمن احمدیہ کے ذمہ ہوگا۔مگر شرط یہ ہوگی کہ اگر وہ موقعہ پر پہنچ جائیں۔سیکرٹری شوری تمام ملک میں اطلاع دیدے کہ فوراً پہنچ جاؤ۔اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہوگا۔اور اس کی غیر حاضری خلافت کے انتخاب پر اثر انداز نہیں ہوگی۔نہ یہ عذر سنا جائے گا کہ وقت پر اطلاع شائع نہیں ہوئی۔یہ ان کا اپنا کام ہے کہ وہ پہنچیں۔سیکرٹری شوری کا کام ان کو لانا نہیں ہے۔اس کا کام صرف یہ ہوگا کہ وہ ایک اعلان کر دے اور اگر سیکر ٹری شوری کہے کہ میں نے اعلان کر دیا تھا تو وہ انتخاب جائز سمجھا جائے گا ان لوگوں کا یہ کہہ دینا یا ان میں سے کسی کا یہ کہہ دینا کہ مجھے اطلاع نہیں پہنچ سکی۔اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔نہ قانونا نہ شرعاً یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ کریں گے وہ تمام جماعت کیلئے قابل قبول ہوگا۔اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گا وہ باغی ہوگا۔اور جب بھی انتخاب