خلافت حقّہ اسلامیہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 25

خلافت حقّہ اسلامیہ — Page iv

بسم اللہ الرحمن الرحیم پیش لفظ اللہ تعالیٰ نے احیاء اسلام کے لئے اس زمانہ میں بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور حضرت محمد مصطفی سلی لی ایم کی اتباع اور کامل پیروی کے نتیجہ میں آپ کو امتی نبوت کا منصب عطا کیا اور اپنے وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ میں خلافت علی منھاج النبوۃ کے نظام کو جاری فرمایا۔خلافت وہ بابرکت روحانی نظام ہے جس کے قیام کی بشارت ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی سالی تم نے دی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ خلافت علی منھاج النبوۃ کو قائم کرے گا جس کا سلسلہ دائمی ہوگا تا قیامت منقطع نہیں ہوگا۔خدائے ذوالمنن کا یہ احسان ہے کہ اس نے مسلمانوں کی 1400 سالہ طویل محرومی کے بعد امام مہدی کے ذریعہ خلافت علی منھاج النبوۃ کی یہ نعمت جاری فرمائی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ 72 فرقوں کے مقابل پر یہی وہ واحد جماعت ہے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس انعام کی مستحق اور صراط مستقیم پر گامزن ہے۔سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محموداحم خلف المي الثاني لمصلح الموعودرضی الله تعالى عنہ نے 27 دسمبر 1956ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خلافت حقہ اسلامیہ “ کے عنوان پر بصیرت افروز تقریر فرمائی جس میں آپ نے خلافت احمدیہ کے آئندہ ہمیشہ جاری رہنے اور استحکام خلافت اور انتخاب خلافت کے متعلق طریق کار کو بڑی ہی عمدگی ، خوش اسلوبی اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔