خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ

by Other Authors

Page 34 of 131

خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 34

۳۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جامع الصفات تھے مگر اب مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک شخص تنهایہ خدمت کامیابی سے انجام نہیں دے سکے گا اس لئے مہاجرین وانصا سے دو بزرگ منتخب کر لئے جائیں تا صرف ایک شخص پر بوجھ نہ پڑے اور مختلف قبائل باہم متحد و متفق ہو کر غلبہ اسلام کی مہم جاری رکھ سکیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دوسرے نقطۂ نگاہ کی حمایت کی کیونکہ ان کی دور بین نگاہ دیکھ رہی تھی کہ اِذا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ کے مطابق اب وہ زمانہ ، اسلام کی وسیع اشاعت و ترقی کا آرہا ہے۔ایسے وقت میں اُسی قوم کے کسی فرد کو زمام قیادت سنبھالنی چاہیے جیسے تیرہ سالہ صبر آزما مگی دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ کے انوار سے فیضیاب ہونے اور اُن کو صحیح شکل میں آگے پہنچانے اور پھیلانے کا موقع ملا۔یقیناً وہی آئندہ نسلوں کو اسلام کی حقیقی روایات سے وابستہ رکھ سکے گا اور اُسی کے ذریعہ تقبیل میں داخیل اسلام ہونے والی قوموں اور نسلوں کو اسلام کی صحیح روشنی مل سکے گی۔تاہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہرگز ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ بار خلافت ان کے نحیف و نزار کندھوں پر ڈال دیا جائے (موطا امام محمد بحوالہ اسوہ صحابہ ۲ ص از مولانا عبد السلام ندوی ، بینی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی یہ رائے پیش کرتے ہی حضرت عمر رض اور حضرت ابو عبیدہ کا نام اس منصب کے لئے تجویز کر دیا اور کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو ( طبری مصری ش حالات جلدم لابی جعفر محمد بن جریر طبری) مگر دونوں نے انکار کیا اور کہا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں امام اور خلیفہ بنایا اور جوسب