خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 29
محدث دہلوی) عشاق رسول آنحضرت کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تو تیار تھے کہ اپنے حواس کو متل مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں دشوار تھا کہ ان کا سب سے پیارا رسول اُن سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کی حالت تو بالکل برداشت سے باہر تھی۔وہ عشق و وارفتگی میں عرصہ سے یہ مجھے میٹھے تھے کہ ہم سب صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی فوت ہوں گے اور حضور کی وفات ہمارے بعد ہو گی (مواہب اللدنيه للقسطلانی جلد ۲ ص ۳۷ مطبوعہ ۱۳۲۶ھ/ ۱۹۰۸ء) لیکن اس کے برعکس جب آنحضور کے وصال کی خبر پھیلی تو انہوں نے تلوار میان سے نکال لی اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں زندہ ہیں اگر کو ئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت شدہ کہے گا تو میں اس کا سر تن سے جدا کر دوں گا۔ایک صحابی جس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مدینتہ النبی کس طرح میدان حشر کا نظارہ پیش کر رہا ہے عمان پہنچے اور لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر دی اور کہا کہ میں مدینہ والوں کو ایسے حال میں چھوڑ آیا ہوں کہ ان کے سینے ہنڈیا کی طرح اُبل رہے تھے۔(اصابہ تذکرہ جہم بن کلوه الباہلی ؟ ) اسلام کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی بغاوت تمام صحابہ تو مدینہ منورہ میں رسولِ عربی کے فراق میں ماہی بے آب کی طرح تڑپ