خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 30
رہے تھے مگر اسلام کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے آنحضرت کی وفات پر بہت خوشیاں منائیں اور کہا قدمات هذا الرجلُ الذى كانتِ العرب تُنصَرُبه (کنز العمال جلد ۳ ص ۱۳) وہ مرد چل بسا جس کے باعث عرب مظفر و منصور تھے۔" اس کے علاوہ عرب میں مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسجاح جیسے جھوٹے مدعیان نبوت اٹھ کھڑے جو بو تریخ اسلام حضرت علامہ الشیخ حسن بن محمد و با ر بکری تاریخ میں جلد ۲۲ میں لکھتے ہیں :- " ان العرب افترقت في رِدَتِها فقالت فرقة لوكان نبيا مامات وقال بعضهم انقضت النبوة بموته فلا نطيع احدا بعده وقال بعضهم نومن بالله ونشهد ان محمّدًا رسول الله ونصلّى ولكن لا نعطيكم اموالنا ترجمہ : عرب کے مرتدین میں تفرقہ برپا ہو گیا۔ایک گروہ نے کہا اگر محمد رصلی اللہ علیہ وسلم ) نبی ہوتے تو فوت نہ ہوتے بعض نے کہا آنحضرت کی وفات سے نبوت ختم ہو گئی ہے۔پس ہم آپ کے بعد کسی کی اطاعت نہیں کریں گے (یعنی کسی کو خلیفہ مجد دریا مذہبی صلح تسلیم نہیں کریں گے ) بعض لوگوں نے کہا ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ہم نماز بھی پڑھتے ہیں لیکن ہم اپنے اموال تمہیں نہیں دیں گے (مطلب یہ کہ اسلام ہمارا دین ضرور