خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 48
هم نے اٹھا رکھی تھی۔یہ وہی بادیہ نشین تھے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی فرمائی تھی: قَالَتِ الأَعْرَابُ أَمَنَاء قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ، (الحجرات : ۱۵) منکرین نبوت محمدیہ سے مراد علیہ مسیلمہ، سجاح اور ذو الستان لقیط بن مالک جیسے جھوٹے مدعیان نبوت تھے جو اسلامی سلطنت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا بر سر پیکار تھے بعضرت ابو نبر صدیق کو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی تو یہ اور برکت سے فیضان ختم نبوت کا مکمل و تم عرفان تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔66 أبو بكر اَفضَلُ هَذِهِ الْأُمِّةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيَّ (کنوز الحقائق وكنز العمال جلد ۶ تا ۱۳) ابو بکر افضل امت ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو جائے۔حضرت ابو بریہ کو یہ ھی معرفت کا علم حاصل تھی کہ آخر صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے سیم محمدی کو چار بار نبی اللہ کے نام سے یاد فرمایا ہے اور یہ خیر دی ہے کہ " انه لیس بینی و بینه نبی“ (بخاری ) کہ میرے اور مسیح محمدی کے درمیان کوئی نبی نہیں ہو گا لہذا اس درمیانی عرصہ میں دھوئی نبوت کرنے والا ہر شخص و تقال و کذاب ہو گا ) اس فیصلہ نبوی کے مطابق آپ اس یقین پر علی وجہ البصیرت قائم تھے کہ یہ