خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 31
ہے مگر ملک میں نظام معیشت ہم اپنی مرضی سے استوار کریں گے) یہ اندرونی فتنہ ہی کچھ کم خطرناک اور قیامت خیز نہ تھا کہ قیصر و کسرنی کی حکومتیں جو آج کے روس اور امریکہ کی طرح پوری دنیا کے اقتدار اور سیاست پر چھائی ہوئی تھیں اور سالہا سال سے مرکز اسلام مدینتہ الرسول کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی سازشیں کر رہی تھیں، دیکھتے ہی دیکھتے حرکت میں آگئیں۔چنانچہ علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں (بحوالہ طبرانی) یہ روایت نقل کی ہے کہ عرب کے عیسائیوں نے ہر قل کو لکھ بھیجا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتقال ہو گیا ہے اور عرب سخت قحط کی وجہ سے بھوکوں مر رہے ہیں اس بناء پر ہر قتل نے چالیس ہزار فوج جمع کی۔دسیرت النبی جلد ا هم از علامہ شبلی )۔اسی طرح بارھویں صدی کے مجدد اور سعودی عرب کے دینی پیشوا حضرت امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ نے مختصر سیرت الرسول" میں لکھا ہے کہ : " لَمَّا ارْتَدَتِ الْعَرَب بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلم قال كسرى مَنْ يَكْفِينى امرَ العَرَب فقد مات صاحبهم وهم الأن يختلِفونَ بَينَهُمُ الا ان يُرِيدَ الله بقاء ملكهم فيجتمعون على أفضلهم قالو اند لك على الملِ الرَّجُلِ مخارف بن النعمان ليس في النَّاسِ مثْله وهو من اهل بيت دانت لهم العَرَب وهؤلاء جيرانك بكر بن وائل فارسل اليهم واَخَذَ منهم ستمارة الأشرت فالأشرف مختصر سیرت الرسول