خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 56
۵۳ صحابہ نے اس دور میں کس طرح تبلیغ اسلام کا جہاد کبیر کیا اس کی ایک مثال بارھویں صدی ہجری کے مجتہد اور سعودی حکومت کے مذہبی پیشوا حضرت محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۶۱۷۰۳ وفات ۶۱۷۹۱) کی کتاب مختصر سیرت الرسول صلى الله کہ اسے بیان کرتا ہوں۔فرماتے ہیں:۔عليه وم جب اہل ہجر اسلام سے برگشتہ ہونے لگے تو آنحضرت کے (محبوب صحابی حضرت جارو و من المعلی اپنی قوم کو سمجھانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے فرمایا لوگو ! تم موسی کو کیا مجھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں۔پھر حضرت جارود نے پوچھا کہ تم حضرت عیسی کو کیا جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ خدا کے رسول ہیں۔اس پر حضرت بارودا نے فرمایا > انا اشهد ان لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ عَاشَ كَمَا عَاشُوا وَمَاتَ كَمَا مَا تُوْا میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔آپ نے ویسے ہی زندگی گزاری جس طرح حضرت موسی و عیسی زندہ رہے اور اسی طرح فوت ہوئے جیسے حضرت موسی و عیسی وفات پاگئے۔حضرت جار و دین المعلی کی اس موثر تقریر کا یہ اثر ہوا کہ قبیلہ عبد القیس میں سے کسی فرد نے ارتداد اختیار نہ کیا صحیح کو مرنے دو کہ اسلام کی زندگی اسی میں ہے “ ملفوظات مسیح موعود