خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 57
۵۴ جلد ۱ ص ۲۵) (ترجمه از مختصر سیرت رسول ص ۲۲ مطبع ) المحمديه القاهره ۱۳۷۵ ۵/ ۱۶۱۹۵۶ فتنہ ارتداد کو مٹانے میں اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں سے حضرت ثمامہ بن اثال ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ، حضرت سہیل بن عمر اور دوسرے بجانثار صحابہ نے شاندار خدمات انجام دیں مگر سید نا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے تبلیغی جہاد کا حق ادا کر دیا جیسا کہ رب العالمین کے اس محبوب اور اس کے منصور اسدالله الغالب نے ایک بار فرمایا :- فَمَشَيْتُ عِنْدَ ذلِكَ إِلَى إِلَى بَكْرِ فَبَايَعْتُهُ وَنَهَضْتُ في تلك الأحداثِ حَتَّى زَاغَ الْبَاطِلُ وَزَهَقَ وَكَانَتْ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا " ( منار الهدى مولفه شيخ على الحراني ص ۳) یکی خود چل کر حضرت ابو بنجر کے پاس گیا اور ان کی بیعت کر لی اور ان حوادث میں ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور یہاں تک مقابلہ کیا کہ باطل را و حق سے ہٹ گیا اور بھاگ گیا اور خدا تعالیٰ کا کلمہ توحید بلند ہو گیا۔رگین کا حیرت انگیز اعتراف یورپ کا نامور مورخ گی ABDOM قرآنی پیش گوئی ولید کنم BBON) من بعد خوفهم أمنًا کی حقانیت کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے :-