خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 45
۴۲ مشہور مصری ادیب محمد حسین سہیل نے بھی اپنی محققانہ کتاب ابو بکر صدیق اکبر میں لکھا ہے کہ :۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے مسلمانوں کی حالت اُس ریوڈ کی طرح ہو گئی تھی جو جھاڑے کی نہایت سرد اور بارش والی رات کو ایک لق و دق صحرا میں بغیر چرواہے کے رہ جائے اور اُسے سر چھپانے کو بھی کہیں جگہ نہ مل سکے۔(ترجمہ ص۱۳) افق عرب پر کفر وطنیان اور ضلالت و گمراہی کے سیاہ اور تاریک بادل چھا گئے تھے اور مکہ ، طائف اور مدینہ کے سوا اسلام کا نام و نشان مٹ گیا حتی کہ مرکز اسلام مدینہ النبی میں صرف دو مسجدیں ایسی رہ گئیں جہاں با قاعدہ نماز باجماعت پڑھی جاتی تھی۔(مروج الذهب للمسعودى جلدا ص۲) اور جیسا کہ سید امیر علی مرحوم سی آئی ای ای ایل ڈی ڈی ایل پریوی کونسلر نے لکھا ہے :- اسلام تقریباً مدینہ کی حدود میں سمٹ کر رہ گیا تھا۔ایک مرتبہ پھر ایک شہر کو سارے جزیرہ نما کی فوجوں سے لڑنا تھا " ( تاریخ اسلام اردو (ص ) جیش اسامی کی روانگی اور کامیاب مراجعت ( سند نا حضرت ابوبکر صدیق نے اللہ تعالیٰ سے دعاؤں اور اس کے خاص القاء