خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 46
۴۳ سے ان فتنوں کے خلاف اولین قدم یہ اٹھایا کہ حضرت اسامہ بن زید کی سرکردگی میں ایک اسلامی لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا۔بی شکر آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں تیار کیا تھا کہ حضور کا انتقال ہوگیا۔تمام جلیل القدر صحابہ نے حضرت ابو بکر صدیق رض کی خدمت میں درخواست کی کہ یہ وقت سخت خطر ناک ہے۔اگر اسامیہ کا لشکر بھی عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے پھیلا گیا تو مدینہ میں صرف بچے اور بوڑھے رہ جائیں گے اور مسلمان عورتوں کی حفاظت نہ ہو سکے گی ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں جب ہم انہیں دبا لیں گے تو پھر اسامہ کے شکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا جا سکتا ہے لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے یہ درخواست رد کر دی اور نہایت پر شوکت اور پر علال الفاظ میں جواب دیا کہ کیا ابو قحافہ کا بیٹا خلافت پر فائز ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری مہم تیار کی تھی اُسے روک دے یہ نہیں ہو سکتا۔پھر فرمایا :- عقدة " والذى لا اله إلا هو لو جَرَّتِ الكلاب با رجل ازواج النبي ما رَدَدْتُ جَيْشًا وَجَهَهُ رسُولُ اللهِ وَلَا حَلَلْتُ لوام جهة۔( تاريخ الخلفاء للسيوطي ) اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر صحرا کے گئے بھی مدینہ میں گھس آئیں اور ازواج مطہرات پاؤں تک بھیٹے لگیں تب بھی ہیں اس لشکر کو نہیں لوٹاؤں گا جسے محمد رسول اللہ