خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ

by Other Authors

Page 32 of 131

خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 32

۲۹ مطبعة السنة المحمدية ، اشارع مشریف باشا الكبير قاہرہ ۱۳۷۵ هـ مطابق ۱۹۵۶ء ص ۲۲، ص۲۲۲ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عربوں نے ارتداد اختیار کر لیا تو کسری نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اس وقت میری طرف سے ان عربوں کے معاملہ میں پورے طور پر کون نیٹے گا ؟ اس وقت ان عربوں کا یہ اہنما اور آقا تو فوت ہو گیا ہے اور وہ باہم اختلاف میں مبتلا ہیں۔ہاں اگر اللہ تعالیٰ ان کی بادشاہت کو قائم رکھنا چاہے گا تو وہ اپنے میں سے بہترین پر متفق ہو جائیں گے اور نہ اب ان کا ہلاک ہونا یقینی ہے ) قوم کے لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کام کے لئے بہترین اور بے نظر شخص کا پتہ بتاتے ہیں وہ مخارف بن النعمان ہے۔عرب لوگ پہلے بھی اس کے خاندان کے تابع رہ چکے ہیں اور یہ لوگ آپ کے پڑوسی قبیلہ بنوبکر بن وائل ہیں۔کسری نے بنو بکر کو پیغام بھیج کر بلایا اور ان میں سے اعلیٰ طبقہ کے چھ سو افراد کو شورش بیا کرنے کے لئے منتخب کر لیا۔خلافت صدیقی پر اجماع برادران اسلام با آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر خدا کی طرف سے نہ ہوتے اور اسلام خدا کا دین اور قرآن اس کی کتاب نہ ہوتی تو آنحضرت کی وفات پر اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ یقینی تھا۔وہ زمانہ تارا ٹیلی فون ، ریڈیو اورٹیلیوتین کا نہ تھا اور نہ صحابہ کے پاس کوئی ایسے ذرائع و وسائل تھے جن سے وہ آنا فانا