خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ — Page 6
شگوئی آیت استخلاف میں پہلی پیش میں آیت استخلاف میں پہلی پیش گوئی یہ کی گئی تھی کہ نظام خلافت کا قیام عض مؤمنوں اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کے ذریعہ معرض وجود ہیں آئے گا۔قرآن مجید کا یہ زبر دست معجزہ ہے کہ اس نے دوسرے مقامات پر انحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے معا بعد خلیفہ الرسول نے والے برگزید وجود کا خصوصی ذکر کر دیا ہے چنانچہ انصر کو بطور عبارت النص اور حضرت ابوبیر کو بطور اشارة النص " ثانی اثنین قراردیتے ہوئے فرماتا ہے۔اِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَانْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَايَدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السَّفْ وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَاء وَاللهُ عَزِيز حكيم 0 ( التوبه : ۴۰ ) فرمایا: اگر تم اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرو تو یاد رکھو کہ ) اللہ تعالیٰ اُس وقت بھی اس کی مدد کر چکا ہے جبکہ اسے کافروں نے دو میں سے ایک کی صورت میں نکال دیا تھا جبکہ وہ دونوں (یعنی آنحضرت صلعم اور حضرت ابو کیش غار میں تھے اور آنحضرت اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کچھ غم نہ کرو اللہ یقیناً ہم دونوں کے ساتھ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی محمد مصطفے امتنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور آپ کی مدد ایسے لشکروں سے کی