خلافت احمدیہ

by Other Authors

Page 20 of 48

خلافت احمدیہ — Page 20

ہوا کرتی بچھا ہے اسی وقت مارے جاتے ہیں جب باقاعدہ جنگ کا زمانہ نہ ہو۔خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے ولی نہیں ہوتے۔نہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا نہ حضرت عمر ضیا حضرت عثمان یا حضرت علی ان کے زمانہ ہیں۔ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ولی کھڑے کئے کہ جو لوگ اُن کے جھنڈے تلے جمع ہو سکیں انہیں کر لیں تا قوم با لکل ہی تنزبیر نہ ہو جائے لیکن جب خلافت قائم ہو اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے جب منتظم فوج موجود ہو تو گوریلا جنگ نہیں کی جاتی۔پس خلافت کی موجودگی میں ایسی ولایت کا وسوسہ در اصل کبر اور بڑائی ہے۔الفضل مورخه ۱۶ را حسان ریبون ها ۲-۵) دنیائے رُوحانیت کا مسلمہ قانون دنیائے روحانیت کا یہ ستمہ قانون و اصول ہے کہ جس قدر عظیم نعمت کسی قوم کو عطا ہوتی ہے اسی قدر اضافہ اس کی ذمہ داریوں میں ہو جاتا ہے خلافت ایک عظیم ترین نعمت ہے جو اس زمانہ میں مسلمانوں کو احمدیت کے ذریعہ اللہ تعالی کے پاک وعدوں کے عین مطابق دی گئی ہے جس پر ہم جتنے بھی سجدات شکر بجالائیں کم ہیں ہماری زبانیں اس احسان عظیم پر اپنے مون کی حمد سے بر میز اور ' ہماری دو میں اس کے آستانہ پر سجدہ ریز ہیں۔