خلافت احمدیہ — Page 19
14 مقام خلافت اور مجددیت ۱۹۳م کا واقعہ ہے کہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں مجلس علم و عرفان کے دوران ایک شخص نے سوال کیا کہ " کیا خلیفہ کی موجودگی میں مجد دور ہو سکتا ہے ؟ اس پر حضور مرنے پہ طیف جواب دیا کہ :۔خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے پھر اُس کی موجودگی میں مجتہ د کس طرح آ سکتا ہے ؟ مجدد تو اس وقت آیا کرتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے " الفضل ۸ شهادت / اپریل هم حت خلافت اور گدیوں والی ولایت ۱۳۱۹ ۱۹۴ وسط هیا میں بعض نام نہاد صوفیوں نے خود پسندی اور خورستانی کی راہ سے پیسے لے کر دعائیں کرنے کا ڈھونگ رچایا اور اپنی ولایت بگھارتے لگے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ ایسی الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی دور میں آنکھ سے اس فتنہ کے بداثرات کو بھانپ لیا اور ایک خطبہ نتیجہ میں اس کی حقیقت نمایاں کرتے ہوئے فرمایا : خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گولیوں والی ولایت کے کوئی معنے ہی نہیں۔جیسے گوریلا والا کبھی جنگ کے زمانہ میں نہیں