خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 85

خلافة على منهاج النبوة ۸۵ جلد سوم مہینہ دو مہینہ سے اس میں پھر کسی قدرحرکت معلوم ہوتی ہے۔میں نے بارہا اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ امام کے بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈھال کے طور پر ہوتا ہے اور جماعت اس کے پیچھے لڑتی ہے۔یہ جائز نہیں کہ جماعت کے لوگ خود دلڑائی چھیڑ دیں۔اعلانِ جنگ امام کا کام ہے اور وہ جس امر کے متعلق اعلان کرے جماعت اُس طرف متوجہ ہو۔مگر کئی دوست نہیں سمجھتے اور جھٹ ہرامر پر اظہارِ خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات دشمن اس سے چڑ کر شدت سے گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور چھوٹی سی بات بہت بڑی بن جاتی ہے اور پھر ساری جماعت اس میں ملوث ہو جاتی ہے۔ایک عام آدمی جس کو خدا تعالیٰ نے اختیار نہیں دیا ہوتا نہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ کی ضرورتیں کیا ہیں نہ اُس کو کسی سکیم کا پتہ ہوتا ہے، نہ دشمن کی چالوں کو سمجھتا ہے، نہ اسے یہ علم ہوتا ہے کہ طاقت کہاں کہاں خرچ کرنی ہے، نہ جماعت کی ضرورتیں اور ترقی کی سکیمیں اُس کے ذہن میں ہوتی ہیں ، نہ اس کے علم میں ہوتا ہے کہ خلیفہ کی اس امر کے متعلق کیا تجویز ہیں ہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی رپورٹیں نہیں پہنچتیں اور نہ حالات کا اُس کو علم ہوتا ہے وہ اپنی حماقت سے ایک چنگاری چھوڑ دیتا یا دشمن کی لگائی ہوئی آگ کو اپنی پھونکوں سے روشن کر دیتا ہے اور پھر ساری جماعت کو اسے بجھانا پڑتا ہے۔خلیفہ کو اپنی سکیمیں پیچھے ڈالنی پڑتی ہیں اور جماعت کی ساری طاقت اس شخص کی بھڑکائی ہوئی آگ کے بجھانے میں صرف ہو جاتی ہے۔میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے امور میں قطعی طور پر امام کی اتباع کی جائے۔اب کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو لوگ بیعت میں اقرار کریں کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور دوسری طرف اپنی جھوٹی عزت کا خیال کرتے ہوئے اور امام کے اعمال کی حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ خیال کریں کہ اگر امام گالی کا جواب نہیں دیتا تو اُس کی بے غیرتی ہے۔حالانکہ امام خوب سمجھتا ہے کہ فلاں جگہ خاموش رہنا مناسب ہے یا جواب دینا اور وہی خوب سمجھتا ہے کہ اس کا کیا جواب دیا جائے۔ہر گالی جواب کے قابل نہیں ہوتی۔