خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 79
خلافة على منهاج النبوة 29 جلد سوم واجب الاطاعت خلیفہ نہیں بن سکتا۔دیکھو جماعت کتنے خطرات میں سے گزر رہی ہے اور غور کرو ان کو دبانا کس انسان کی طاقت میں تھا۔کم سے کم وہ انسان تو نہیں دبا سکتا تھا جس کے متعلق دوست دشمن سب کی یہی رائے تھی کہ یہ نا تجربہ کار نوجوان ہے۔پھر سوچو کہ اس قدر شدید خطرات کے باوجود کون جماعت کو ترقی پر لے گیا ؟ کیا وہی خدا نہیں جس نے کہا ہوا ہے کہ خلیفے ہم بناتے ہیں؟ یہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ کام ایسے ہی لوگوں سے لیتا ہے جنہیں دنیا نالائق سمجھتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کام کرنے والا کون ہوسکتا ہے نہ آپ سے پہلے کوئی ایسا تھا نہ اب تک ہوا ہے اور نہ آئندہ ایسا ہو گا مگر دنیا نے آپ کی جو قیمت سمجھی تھی وہ پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعہ بتا دی تھی یعنی وہ پتھر جسے معماروں نے رڈ کر دیا۔بائبل میں یہ بتا دیا گیا تھا کہ جو لوگ اپنے آپ کو کارخانہ عالم کے انجینئر سمجھتے ہیں اور دنیا کی عام اصلاح کے مدعی ہیں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ہر اُن کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ ہمارے مطلب کا نہیں ، مگر دنیا کے قیام اور زینت کا موجب وہی بنا۔پھر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ ال کام لیا۔آج دشمن کہتے ہیں کہ آپ پاگل تھے مگر خدا کی شان دیکھو کہ اُس نے آپ سے کتنا کام لیا۔سب نبیوں کو اُن کے مخالف پاگل کہتے آئے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ بہت اچھا پاگل ہی سہی مگر ہمیں تو اُس شخص کی ضرورت ہے جو ہمیں خدا سے ملا دے اور اسلام کو دنیا میں قائم کر دے۔اگر پاگل سے یہ امور سرزد ہوں تو ہم نے فلسفیوں کو کیا کرنا ہے بلکہ میں کہوں گا کہ لاکھوں فلسفیوں کو اُس کی جوتی کی نوک پر قربان کیا جاسکتا ہے۔السلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے ابتدائی زمانہ میں لوگ کہتے تھے کہ مرزا صاحب تو نَعوذُ بِاللهِ جاہل ہیں۔سارا کام تو نور الدین زمانہ گزرتا گیا گزرتا گیا اور گزرتا گیا۔پھر کہا گیا کہ نہیں ہماری غلطی تھی نورالدین صرف مضامین بتا تا ہے لکھنا اور بولنا نہیں جانتا۔مرزا صاحب کی تحریر اور تقریر میں بجلیاں ہیں جس دن آپ فوت ہوئے یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے نورالدین کو خلیفہ مقرر کیا جن