خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 78
خلافة على منهاج النبوة ۷۸ جلد سوم ظاہری نماز روزہ کے پابند اور صوفی منش آدمی تھے مگر بعض لوگوں کے اندر ایک مخفی رنگ کا کبر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کو شیطان نیکی کی راہیں دکھا کر ہی قابو کرتا ہے اور بعد میں خدا تعالیٰ کا سلوک یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ الہام شیطانی تھا یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو ان کا تو یہ حال ہوا۔ادھر وہ لوگ جو اپنے آپ کو جماعت کا لیڈر اور رئیس سمجھتے تھے اور جن میں سے ایک نے اس سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جاتے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ اس پر آریوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہو گا مگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دس سال گزرے پھر دس سال گزرے اور پھر تیسرے دس سالوں میں سے بھی تین سال گزر گئے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس عمارت پر کسی عیسائی یا آریہ کا قبضہ نہیں بلکہ عیسائیوں اور آریوں کا مقابلہ کرنے والے احمدیوں کا ہی قبضہ ہے۔اور جن احمد یوں کا قبضہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھتے اور طاقتور ہوتے جارہے ہیں اور وہ شخص جس نے اسی مسجد میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرنا چاہا تھا کہ کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اس سال ان کے اخبار میں اعلان کیا جا رہا ہے کہ ہم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک کوئی واجب الاطاعت خلیفہ مقرر نہ کریں اور ہمیں چاہئے کہ ہم مولوی محمد علی صاحب کو ایسا مان لیں۔جس شخص کو میرے مقابلہ پر کھڑا کرنا چاہتے تھے وہ طاعون کا مارا ہوا اپنے گاؤں میں پڑا ہے اور جو لوگ میرے مقابل پر یہ کہہ رہے تھے کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں وہ آج نا کام ہو کر اس مسئلہ کی طرف آ رہے ہیں اور ۲۳ سال بعد پھر اسی نکتہ کی طرف کو ٹتے ہیں۔یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ صدرانجمن کا پریذیڈنٹ بھی ایسا ہونا چاہئے جو کم سے کم چالیس سال کی عمر کا ہو کیونکہ اس سے کم عمر میں عقل اور تجربہ پختہ نہیں ہوسکتا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ۲۵ سال عمر والے کو تو یہ نکتہ اسی وقت معلوم ہو گیا اور چالیس سال والے کو آج جبکہ وہ پینسٹھ سال کو پہنچ چکا ہے معلوم ہوا۔مگر کیا وہ سمجھتے ہیں کہ انسانوں کے بنائے ہوئے خلیفے بھی خلیفے ہوتے ہیں۔ہمارا اور ان کا ایک اختلاف یہ بھی تھا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور اب شاید اللہ تعالیٰ انہیں یہ دکھانا چاہتا ہے کہ خلیفے وہی بناتا ہے۔انسانوں کے بنانے سے کوئی