خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 77
خلافة على منهاج النبوة 22 جلد سوم ہے۔(حالانکہ اس سے مراد جماعت میں شامل کرنے کی بیعت ہے اطاعت کی نہیں ) ہم یہ کیوں نہ کریں کہ چالیس لوگوں کو جمع کر کے سید عابد علی شاہ صاحب کو خلیفہ بنادیں تا لوگوں کی توجہ ادھر سے ہٹ جائے۔عابد علی شاہ صاحب کو الہام الہی کا دعوی تھا۔اُن کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں کوئی عہدہ ملنے والا ہے چنانچہ انہوں نے عابد علی شاہ صاحب کو منوا بھی لیا لیکن لالٹین لے کر وہ ساری رات در بدر پھرتے رہے مگر انہیں چالیس آدمی بھی میسر نہ آئے۔حالانکہ آبادی بہت کافی تھی اور ہزاروں اشخاص با ہر سے بھی آئے ہوئے تھے۔خدا کی قدرت ہے اگر ان کو چالیس آدمی مل جاتے تو ممکن ہے اُسی وقت خلافت کا ڈھونگ رچاتے۔لیکن اتنے آدمی بھی نہ ملے اور ادھر عابد علی شاہ صاحب کو دوسرے دن رؤیا ہوا اور انہوں نے آکر میری بیعت کر لی وَالله اَعْلَمُ یہ ان کی کوئی خیالی بات تھی یا اللہ تعالیٰ کا انہیں ہدایت دینے کا منشاء تھا۔انہوں نے دوسرے روز آکر بیعت کر لی۔لیکن پہلے چونکہ انہوں نے خلیفہ بنے کیلئے رضا مندی کا اظہار کر دیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی انہیں بڑی سخت سزا دی۔بیعت کے کچھ عرصہ بعد وہ کہنے لگے کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ منتخب کیا ہے۔میں نے کہا کہ آپ کا خدا بھی عجیب ہے بھی تو آپ کو خلیفہ مقرر کرتا ہے اور کبھی بیعت کرنے کا حکم دیتا ہے۔مگر وہ آہستہ آہستہ اس دعوئی میں بڑھتے گئے اور آخر جماعت سے الگ ہوکر بیعت لینے لگ گئے۔چند سالوں کے بعد جب طاعون پھیلی تو انہوں نے کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میرا گھر طاعون سے محفوظ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی الہام تھا مگر دیکھو دونوں میں کتنا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کے شائع ہونے کے بعد پانچ سات سال تک قادیان میں طاعون پھیلتی رہی بلکہ اس محلہ میں جس میں آپ کا گھر تھا پھیلتی رہی اور ان گھروں میں پھیلتی رہی جو آپ کے مکان کے دائیں بائیں واقع تھے اور پھر معمولی حالت میں نہیں بلکہ ایسی شدید تھی کہ تین تین ، چار چار اموات ان گھروں میں ہوئیں مگر آپ کے مکان میں ایک چھو ہا تک نہ مرا۔لیکن سید عابد علی صاحب کے الہام کے بعد نہ صرف یہ کہ ان کے گھر میں آنے والے بعض لوگ طاعون سے ہلاک ہوئے بلکہ وہ خود بھی اور اُن کی بیوی بھی اسی سال طاعون سے فوت ہو گئے۔بیشک و وہ