خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 74
خلافة على منهاج النبوة ۷۴ جلد سوم جماعت اور سلسلہ کو کوئی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ہمارے متعلق کہا جاتا تھا کہ ہم لوگ صرف خلافت کے حصول کیلئے اس مسئلہ کو پیش کر رہے تھے اور اپنی حکومت اور طاقت کے بڑھانے کا ذریعہ اسے بنارہے تھے۔جب میں نے دیکھا کہ اس تائید کو ایک غلط رنگ دیا جاتا ہے اور غلط پیرا یہ میں اسے پیش کیا جاتا ہے تو میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو کسی ایسے امر سے نقصان نہیں پہنچنا چاہئے جس کا ازالہ ہمارے امکان میں ہو اور اس لئے میں نے مولوی محمد علی صاحب کو جو اُس وقت اس تحریک کے لیڈر تھے اس غرض سے بلوایا تا ان کے ساتھ کوئی مناسب گفتگو کی جاسکے۔اس مسجد کے دائیں جانب نواب محمد علی خان صاحب کا مکان ہے جہاں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے وفات پائی تھی اس کے ایک کمرہ میں میں نے مولوی محمد علی صاحب کو بلوا کر کہا کہ خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا پیش نہ کریں اور اپنے خیالات کو صرف اس حد تک محدود رکھیں کہ ایسا خلیفہ منتخب ہو جس کے ہاتھ میں جماعت کے مفاد محفوظ ہوں اور جو اسلام کی ترقی کی کوشش کر سکے۔چونکہ صلح ایسے ہی امور میں ممکن ہوتی ہے جن میں قربانی ممکن ہو میں نے مولوی صاحب سے کہا جہاں تک ذاتیات کا سوال ہے میں اپنے جذبات کو آپ کی خاطر قربان کر سکتا ہوں لیکن اگر اصول کا سوال آیا تو مجبوری ہوگی کیونکہ اصول کا ترک کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ہمارے اور آپ کے درمیان یہی فرق ہے کہ ہم خلافت کو ایک مذہبی مسئلہ سمجھتے ہیں اور خلافت کے وجود کو ضروری قرار دیتے ہیں مگر آپ خلافت کے وجود کو ائز قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ابھی ابھی ایک خلیفہ کی بیعت سے آپ کو آزادی ملی ہے اور چھ سال تک آپ نے بیعت کئے رکھی ہے اور جو چیز چھ سال تک جائز تھی وہ آئندہ بھی حرام نہیں ہو سکتی۔آپ کی اور ہماری پوزیشن میں یہ ایک فرق ہے کہ آپ اگر اپنی بات کو چھوڑ دیں تو آپ کو وہی چیز اختیار کرنی پڑے گی جسے آپ نے آج تک اختیار کئے رکھا۔لیکن ہم اگر اپنی بات چھوڑیں تو وہ چیز چھوڑنی پڑتی ہے جسے چھوڑنا ہمارے عقیدہ اور مذہب کے خلاف ہے اور جس کے خلاف ہم نے کبھی عمل نہیں کیا۔پس انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ آپ وہ راہ اختیار کرلیں جو آپ نے آج تک اختیار کر رکھی تھی اور ہمیں ہمارے مذہب اور اصول کے خلاف مجبور نہ کریں۔باقی رہا یہ سوال کہ جماعت کی ترقی اور اسلام کے قیام کیلئے کون مفید ہوسکتا ہے