خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 73

خلافة على منهاج النبوة ۷۳ جلد سوم سلسلہ احمدیہ میں نظام خلافت خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے ۲۳ سالہ واقعات کی شہادت فرموده ۲۶ مارچ ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج سے ۲۳ سال قبل اس مقام پر اسی مسجد میں ہمارے سامنے ایک ایسا سوال پیش ہوا تھا جو ہماری جماعت کیلئے زندگی اور موت کا سوال تھا۔تاریخ آج کی نہ تھی لیکن مہینہ یہی تھا جبکہ جماعت کے مختلف نمائندوں اور احباب کے سامنے یہ سوال اُٹھایا گیا تھا کہ آیا ہماری جماعت کا نظام اسلامی طریق کے مطابق خلافت کے ماتحت ہوگا یا مغربی طریق پر ایک انجمن کے ماتحت۔میری عمر اُس وقت پچیس سال دو ماہ تھی۔دنیوی تجربہ کے لحاظ سے میں کوئی کام ایسا پیش نہیں کر سکتا تھا اور نہیں کر سکتا کہ جس کی بناء پر یہ کہا جا سکے کہ مجھے دنیا کے کاموں کا کوئی تجربہ حاصل تھا۔سلسلہ کے تمام کام ایک ایسی جماعت کے سپرد تھے جو اُس وقت نظام خلافت کی شدید مخالف تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ نظام جماعت ایک انجمن کے ماتحت چاہئے جس کے پریذیڈنٹ کو کسی قدر اختیارات تو دے دیئے جائیں لیکن وہ کثرتِ رائے کا پابند ہوا اور خلافت کا نظام چونکہ اس زمانہ کے طریق اور اس زمانہ کی رو کے خلاف ہے اور اس نظام میں بہت سے نقائص ہیں اس لئے اسے اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔حضرت خلیفہ اول کی بیعت ایک پریشانی، گھبراہٹ اور صدمہ کے ماتحت ہوئی تھی اور ضروری نہیں کہ جماعت پھر اسی غلطی کا اعادہ کرے۔اس کے برخلاف میں اور بعض میرے احباب اس بات پر قائم تھے کہ خلافت شریعت اسلامیہ کا ایک اہم مسئلہ ہے اور یہ کہ بغیر خلافت کے صحیح طریق کے اختیار کرنے کے