خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 72

خلافة على منهاج النبوة ۷۲ جلد سوم کی رائے غلط ثابت ہوئی۔ایک وہ وقت تھا کہ حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کے زمانہ میں پیغامیوں کے اس کہنے پر کہ ایک بچہ کے ذریعہ جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے، مسجد میں بیٹھے ہوئے احمدی گریہ و بکا کر رہے تھے اور رورہے تھے کہ واقعہ میں جماعت کو ایک بچہ کے ذریعہ تباہ کیا جا رہا ہے مگر آج وہی بچہ ہے جس کے سامنے وہی لوگ اس کی بیعت میں داخل ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں کیا یہ سب کچھ نشان اور معجز نہیں؟ پس اگر خلافت کے کوئی معنی ہیں تو آپ لوگوں کو وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو میں بتا تا ہوں ورنہ بیعت چھوڑ دینا بیعت میں رہ کر اطاعت نہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔وہ طریق جو میں نے متواتر بتایا ہے یہ ہے کہ ہمارے سامنے نہایت ہی اہم معاملات ہیں۔آج تک ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر ایک عدالت نے جو حملہ کیا تھا وہ بغیر بدلہ لئے قائم ہے۔میں ہر اُس احمدی سے جو سمجھتا ہے کہ وہ غیرت مند ہے کہتا ہوں اگر اس کی غیرت کسی اور جگہ ظاہر ہوتی ہے تو وہ سخت بے غیرت ہے۔اگر وہ واقعہ میں غیرت مند ہے تو کیوں اس کی غیرت اس جگہ ظاہر نہیں ہوتی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر حملہ کیا جاتا ہے۔ابھی تک نہ اس فیصلہ کی تردید ہندوستان میں پھیلا ئی گئی ہے نہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی کثرت سے لوگوں میں پھیلایا گیا ہے اور نہ اس کے ازالہ کیلئے گورنمنٹ کو مجبور کیا گیا ہے۔آجکل تو میں نے طریق ہی یہ اختیار کیا ہوا ہے کہ جب کوئی احمدی مجھے اس قسم کا خط لکھتا ہے کہ فلاں احمدی نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تھا جس پر مجھے بڑا جوش آیا مگر میں نے پہلے آپ کو خبر دینا مناسب سمجھا تو میں اُسے لکھا کرتا ہوں میں یہ ماننے کیلئے ہرگز تیار نہیں کہ تم با غیرت ہو۔تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کی حفاظت کیلئے غیرت نہیں دکھائی تو میں یہ کس طرح مان سکتا ہوں کہ تم میں اس وقت غیرت پیدا ہوسکتی ہے جب تمہاری ذات پر کوئی حملہ کرے۔“ خطبات محمود جلد ۷ اصفحه ۳۹۶ تا ۳۹۸) النور : ۵۶