خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 71
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم ہارے گا ، جو میرے پیچھے چلے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اُس پر کھولے جائیں گے اور جو میرے راستہ سے الگ ہو جائے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اُس پر بند کر دئیے جائیں گے۔ایسا انسان جس کی آنکھوں کے سامنے نمونہ نہ ہو وہ معذور ہوتا ہے مگر جس شخص کے سامنے نمونہ ہو اُس کا باوجود نمونہ سامنے ہونے کے صداقت پر مضبوطی سے قائم نہ رہنا بہت بڑا جرم ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے خلافت کی باگ میرے ہاتھ میں اُس وقت دی جب ہمارے خزانے میں صرف چند آنے کے پیسے تھے غالباً اٹھارہ آنے تھے جو اُس وقت خزانہ میں موجود تھے۔پھر پندرہ ہیں ہزار روپیہ قرض تھا اور جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ دشمنوں کے ساتھ ملا ہوا تھا تب اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اور میرے ہاتھوں سے تمام جماعت کو اکٹھا کیا ، اس کی مالی پریشانیوں کو دور کیا اور جماعت آگے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ چلنے لگی۔پھر مسائل کی بحث شروع ہوئی اگر اہل پیغام اس جنگ میں جیتے تو کیا نتیجہ نکلتا۔احمدیت بالکل مٹ جاتی اور روحانی دنیا پر ایک موت آجاتی مگر کیا اس جنگ کے ہر حصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح نہیں دی ؟ کیا ليمكنن لهُمْ دِينَهُمُ الَّذِی ارْتَضَى لَهُمْ لا کا نظارہ اس نے نہیں دکھایا ؟ پھر تبلیغ دین اور اشاعت احمدیت کی جنگ میں اس نے میری پالیسی کو کامیاب نہیں کیا ؟ سلسلہ کے نظام کے بارہ میں میری سکیم کو غیر معمولی برکت نہیں بخشی ؟ حتی کہ دشمن بھی اس پر رشک کرتے ہیں اور اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر نیم سیاسی امور میں ہماری شرکت کے سوال کو لو کیا اس میدان میں اس نے میری باتوں کو درست ثابت نہیں کیا ؟ جب جنگ عظیم کے بعد ادھر خلافت کی شورش پیدا ہوئی ادھر کانگرس کی شورش نے ملک میں ایک آگ لگا دی تو یہ ایک بہت بڑا ابتلاء تھا اور ہندوستان کے عقلمند سے عقلمند انسان بھی اس شورش میں بہ گئے تھے اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے جو راستہ مجھے بتایا وہی ٹھیک اور درست نکلا اور آخر لوگ پچھتا کراسی جگہ پر واپس آگئے جس جگہ میں لانا چاہتا تھا۔پھر ملکانوں میں تبلیغ کا زمانہ آیا خلافت کے فساد کے بعد نئے رنگ میں خلافت کے مٹنے کا جوش پیدا ہوا ، عرب میں اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا، ان میں سے ہر معاملہ میں خدا تعالیٰ نے میری رائے کو صحیح ثابت کیا اور دوسروں