خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 70
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی تفسیر ۱۹ جون ۱۹۳۶ء کو خطبہ جمعہ اهدنا الصراط الْمُسْتَقِيمَ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا :۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ ہر چیز اپنے ماحول کے ساتھ ہی ترقی کر سکتی ہے بغیر اس کے نہیں۔تم اچھے سے اچھا گیہوں کا بیج اگر جیٹھ یا ہاڑ میں بو دو تو اس سے کھیتی پیدا نہیں ہو گی ، تم عمدہ سے عمدہ کپاس کا بیج اگر اگست اور ستمبر میں بود و تو اس پیج سے کپاس کی فصل نہیں ہوگی ، یا بہتر سے بہتر کتا اگر تم اپریل یا مئی میں بود و تو اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ ہر چیز کیلئے خدا تعالیٰ نے کچھ قانون مقرر فرمائے ہیں اور ان کے ماتحت ہی نتیجہ نکلا کرتا ہے۔میں نے ہمیشہ بتایا ہے اور اب دو سال سے تو متواتر بتاتا چلا آ رہا ہوں کہ خلافت کی غرض و غایت کچھ نہ کچھ ضرور ہونی چاہئے اور جب کوئی شخص خلیفہ کی بیعت کرتا ہے تو اس کی بیعت کے بھی کوئی معنے ہونے چاہئیں۔اگر تم بیعت کے بعد اور میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کے بعد میری سنتے ہی نہیں اور اپنی ہی کہے چلے جاتے ہو تو ایسی بیعت کا فائدہ ہی کیا؟ اس صورت میں تو ایسی بیعت کو تہہ کر کے الگ پھینک دینا زیادہ فائدہ مند ہے بہ نسبت اس کے کہ انسان دنیا میں بھی ذلیل ہوا اور خدا تعالیٰ کی نظر میں بھی لعنتی بنے۔میں نے متواتر آپ لوگوں کو بتایا ہے کہ ہر کام جو آپ لوگ کریں عقل کے ماتحت کریں اور ان ہدایات کے ماتحت کریں جو میں آپ لوگوں کو دیتا آ رہا ہوں۔آپ لوگ اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ، اسی طرح دنیا اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے جیسا کہ ہمیشہ وہ اپنے دین کی ترقی خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔پس جو میری سُنے گا وہ جیتے گا اور جو میری نہیں سنے گا وہ