خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 69

خلافة على منهاج النبوة ۶۹ جلد سوم پس میں بریکاری کو دور کرنے کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور تمام کارکنوں کو خواہ وہ ناظر ہوں یا افسر، کلرک ہوں یا چپڑاسی، پریذیڈنٹ ہوں یا سیکرٹری توجہ دلاتا ہوں کہ اس روح کو اپنے اندر پیدا کرو۔کیا فائدہ اس بات کا کہ تم نے چار سو یا تین سو یا دوسو یا ایک سو ، یا ساٹھ یا پچاس روپیہ چندہ میں دے دیا، اگر تمہارے اندر وہ روح پیدا نہیں ہوئی جو ترقی کرنے والی قوموں کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ہم اگر پچاس روپے کا بیج خرید تے ہیں جسے گھن لگا ہوا ہے تو وہ سب ضائع ہے لیکن اگر ہم ایک روپیہ کا بیج خریدتے ہیں اور وہ تازہ اور عمدہ ہے تو وہ پچاس روپوں کے بیج سے اچھا ہے۔اسی طرح صرف روپیہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک وہ ایثار، وہ قربانی ، وہ تعاون اور وہ محبت و اخوت کی روح پیدا نہیں ہوتی جو جماعت کو یکجان و دو قالب “ بنادیتی ہے۔اگر خلافت کے کوئی معنی ہیں تو پھر خلیفہ ہی ایک ایسا وجود ہے جو ساری جماعت میں ہونا چاہئے اور اُس کے منہ سے جو لفظ نکلے وہی ساری جماعت کے خیالات اور افکار پر حاوی ہونا چاہئے ، وہی اوڑھنا ، وہی بچھونا ہونا چاہئے ، وہی تمہارا ناک، کان، آنکھ اور زبان ہونا چاہئے۔ہاں تمہیں حق ہے کہ اگر کسی بات میں تم خلیفہ وقت سے اختلاف رکھتے ہو تو اسے پیش کرو۔پھر اگر خلیفہ تمہاری بات مان لے تو وہ اپنی تجویز واپس لے لے گا اور اگر نہ مانے تو پھر تمہارا فرض ہے کہ اُس کی کامل اطاعت کرو ویسی ہی اطاعت جیسے دماغ کی اطاعت اُنگلیاں کرتی ہیں۔دماغ کہتا ہے فلاں چیز کو پکڑو اور اُنگلیاں جھٹ اُسے پکڑ لیتی ہیں۔لیکن اگر دماغ کہے اور اُنگلیاں نہ پکڑیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ ہاتھ مفلوج اور انگلیاں رعشہ زدہ ہیں کیونکہ رعشہ کے مریض کی یہ حالت ہوا کرتی ہے کہ وہ چاہتا ہے ایک چیز کو پکڑے مگر اس کی اُنگلیاں اسے نہیں پکڑ سکتیں۔پس خلیفہ ایک حکم دیتا ہے مگر لوگ اُس کی تعمیل نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ رعشہ زدہ وجود ہیں۔لیکن کیا رعشہ والے وجود بھی دنیا میں کوئی کام کیا کرتے ہیں؟“ خطبات محمود جلد۷ اصفحہ اے تا ۷۶ ) ل السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول صفحه ۶۸۲ زیرعنون تشاور قریش فی الرجوع عن القتال ، مطبوعہ دمشق ۲۰۰۵ء السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول صفحه ۲۴ از رعنون رجوع الناس بنداء 66 العباس مطبوعہ دمشق ۲۰۰۵ء