خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 66

خلافة على منهاج النبوة ۶۶ جلد سوم مل چکی تھی کہ روسی دستہ آنے کی اطلاع غلط ہے اصل میں روسی فوج آ رہی ہے جو ایک لاکھ کے قریب ہے۔جب انگریز کمانڈر نے حکم دیا کہ ایک دستہ لے کر مقابلے کیلئے جاؤ تو اُس افسر نے کہا یہ خبر صحیح نہیں ایک لاکھ فوج آرہی ہے اور اُس کا مقابلہ ایک دستہ نہیں کرسکتا۔انگریز کمانڈر نے کہا مجھے صحیح اطلاع ملی ہے تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔وہ سات آٹھ سو کا دستہ لے کر مقابلہ کیلئے چل پڑا لیکن جب قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں ایک لاکھ کے قریب دشمن کی فوج ہے۔بعض ماتحتوں نے کہا کہ اس موقع پر جنگ کرنا درست نہیں ہمیں واپس چلے جانا چاہئے مگر اُس افسر نے گھوڑے کو ایڑ لگا کر آگے بڑھایا اور کہا ماتحت کا کام اطاعت کرنا ہے اعتراض کرنا نہیں۔باقیوں نے بھی گھوڑے بڑھا دئیے اور سب ایک ایک کر کے اس جنگ میں مارے گئے۔قوم آج تک اس واقعہ پر فخر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی قوم کے لوگوں نے اطاعت کا کیسا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور گو یہ انگریز قوم کا واقعہ ہے مگر کون ہے جو اس واقعہ کو سن کر خوشی محسوس نہیں کرتا۔ایک جرمن بھی جب اس واقعہ کو پڑھتا ہے تو وہ فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی ، ایک فرانسیسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش ! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی ، ایک روسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش ! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی۔پس اطاعت اور افسر کی فرمانبرداری ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ دشمن بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر بغیر مصائب میں پڑے اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کے یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ایک اور موقع پر ایک ترک جرنیل نے روسیوں سے لڑائی کی۔ترک جرنیل کو مشورہ دیا گیا کہ اپنے ہتھیار ڈال دو کیونکہ دشمن بہت زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ اس پر تیار نہ ہوا۔آخر وہ قلعہ میں بند ہو گیا روسیوں نے مہینوں اُس کا محاصرہ رکھا اور کوئی کھانے پینے کی چیز باہر سے اندر نہ جانے دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب غذا کا ذخیرہ ختم ہو گیا تو اُس نے سواری کے گھوڑے ذبح کر کے کھانے شروع کر دیئے مگر ہتھیار نہ ڈالے لیکن آخر وہ بھی ختم ہو گئے تو اُس نے بوٹوں کے چمڑے اور دوسری ایسی چیزیں اُبال اُبال کر سپاہیوں کو پلانی شروع کر دیں مگر ہتھیار نہ ڈالے۔آخر سب سامان ختم ہو گئے اور روسی فوج نے قلعہ کی دیواروں کو بھی توڑ دیا تو