خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 63

خلافة على منهاج النبوة ۶۳ جلد سوم ہوسکتا ہے مگر وہ نہایت ادنی چیزیں ہوتی ہیں۔جیسے بعض مسائل کے متعلق حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں اختلاف رہا بلکہ آج تک بھی اُمتِ محمد یہ ان مسائل کے بارے میں ایک عقیدہ اختیار نہیں کر سکی مگر یہ اختلاف صرف جزئیات میں ہی ہو گا اصولی امور میں ان میں کبھی اختلاف نہیں ہوگا بلکہ اس کے برعکس ان میں ایسا اتحاد ہوگا کہ وہ دنیا کے ہادی وراہنما اور اسے روشنی پہنچانے والے ہوں گے۔پس یہ کہہ دینا کہ کوئی شخص با وجود بیعت نہ کرنے کے اسی مقام پر رہ سکتا ہے جس مقام پر بیعت کرنے والا ہو درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص سمجھتا ہی نہیں کہ بیعت اور نظام کیا چیز ہے۔مشورہ کے متعلق بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ایکسپرٹ اور ماہر فن خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے مشورہ لے لیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقدمہ میں ایک انگریز وکیل کیا مگر اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ آپ نے اُمور نبوت میں اُس سے مشورہ لیا۔جنگ احزاب ہوئی تو اُس وقت رسول کریم ﷺ نے سلمان فارسی سے مشورہ لیا اور فرمایا کہ تمہارے ملک میں جنگ کے موقع پر کیا کیا جاتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں تو خندق کھود لی جاتی ہے۔آپ نے فرمایا یہ بہت اچھی تجویز ہے چنانچہ خندق کھو دی گئی۔اور اسی لئے اسے غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔مگر باوجود اس کے ہم نہیں کہہ سکتے کہ سلمان فارسی فنونِ جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ماہر تھے۔انہیں فنونِ جنگ میں مہارت کا وہ مقام کہاں حاصل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کئے وہ کب حضرت سلمان نے کئے بلکہ خلفاء کے زمانہ میں بھی انہیں کسی فوج کا کمانڈر انچیف نہیں بنایا گیا حالانکہ انہوں نے لمبی عمر پائی۔تو ایک ایکسپرٹ خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔میں جب بیمار ہوتا ہوں تو انگریز ڈاکٹروں سے بعض دفعہ مشورہ لے لیتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خلافت میں میں نے ان سے مشورہ لیا۔یا یہ کہ میں انہیں اسی مقام پر سمجھتا ہوں جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو سمجھتا ہوں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ میں نے طب میں مشورہ لیا۔پس فرض کر وسعد بن عبادہ سے کسی دُنیوی امر میں جس میں وہ ماہر فن ہوں مشورہ لینا ثابت ہو تب