خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 628
خلافة على منهاج النبوة ۶۲۸ جلد سوم وقت میں ہوا جب کہ ذہنی ارتقاء کمال کو پہنچ چکا تھا لیکن کسی چیز کا کمال کو پہنچنا اور چیز ہے اور مناسب حال ہونا اور چیز ہے۔بلوغ میں انسانی دماغ کمال کو پہنچ جاتا ہے لیکن کیا ہر بالغ کامل دماغ کا مالک ہوتا ہے۔بعض لوگ جوانی میں ہی بات کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور اس سے نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں۔اور بعض لوگوں کی عقل کہولت میں جا کر پختہ ہوتی ہے۔جس طرح انسانی زندگی ہوتی ہے اسی طرح قوموں کی زندگی ہوتی ہے۔اسلام نے خلافت کو پیش کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس پر عمل بھی ہو گیا کیونکہ اگر اس پر عمل نہ ہوتا تو خلافت صرف کتابی چیز رہ جاتی۔لیکن چونکہ آخری زمانہ میں نئے نئے نظام دنیا میں ظاہر ہونے والے تھے اور نئے نئے اعتراض اسلامی نظامِ حکومت پر پڑنے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے خلافت کو اس زمانہ میں دوبارہ جاری فرمایا تا کہ اس کی فوقیت تمام نظاموں پر ثابت کر کے دکھا دے“۔( الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۴۷ء ) کنز العمال جلد ۵ صفحه ۲۵۹ حدیث نمبر ۳۱۴۴۷ مطبوعہ دمشق ۲۰۱۲ء مشكاة المصابيح جلد ۳ باب الانذار والتحذير الفصل الثالث صفحه ۴۷۸ ۱ حدیث نمبر ۵۳۷۸ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۵ء النور : ۵۶