خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 627

خلافة على منهاج النبوة ۶۲۷ جلد سوم بادشاہت کا رنگ آجائے گا۔اگر تو خلافت قانونِ طبعی ہوتا تو اس کے بند ہونے سے ہمیں حیرت ضرور ہوتی کیونکہ طبعی قانون بدل نہیں سکتا۔مثلاً یہ طبعی قانون ہے کہ وزن دار چیزیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں اگر اس کے خلاف کوئی واقعہ ہوگا تو وہ باعث حیرت بنے گا۔لیکن اگر ایک شخص گراموفون کا ایک ڈسک ایجاد کرتا ہے اور اس کے متعلق کہتا ہے کہ یہ چار منٹ تک چلے گا پھر ختم ہو جائے گا تو اس کے چار منٹ کے بعد ختم ہو جانے پر کسی کو اعتراض کرنے کا موقع نہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس خلافت کا وعدہ کیا ہے وہ بطور انعام کے ہے اور انعام اُسی وقت ملا کرتا ہے جبکہ انسان نیکی کے کام کرے اور جب بُرا ہو جائے تو وہ انعام کا مستحق نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ سے يعنى اے مسلمانو! جب تک تم میں عمل صالح اور صداقت باقی رہے ہم تمہارے درمیان خلافت کو قائم رکھیں گے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کی شرط ضروری قرار دی ہے۔جب تک مسلمان اس شرط پر قائم رہے اللہ تعالیٰ نے خلافت ان کے اندر قائم رکھی جب انہوں نے ایمان اور عمل صالح کو ترک کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے انعام واپس لے لیا۔اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ ہر زمانے کے حالات سے بعض چیزوں کو وابستگی ہوتی ہے اور وہ ایک خاص ماحول میں ترقی کر سکتی ہیں اس کے باہر ترقی نہیں کر سکتیں۔مثلاً اگر زمین میں نومبر کے مہینہ میں گندم کا بیج ڈالا جائے تو بہت اچھی فصل پیدا ہوتی ہے اور اپنے وقت پر جا کر پک جاتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نومبر کی بجائے اگست ستمبر کے مہینہ میں گندم کا پیج ڈالا جائے گا تو وہ بیچ فصل کی صورت اختیار نہیں کر سکے گا اور اوّل تو وہ بیج اُگے گا نہیں اور جو اُگے گا وہ چارے کی صورت میں ہی رہ جائے گا۔اسی طرح ہم باقی چیزوں کے متعلق دیکھتے ہیں کہ اگر خاص وقت اور خاص ماحول میں ان کو سرانجام دیا جائے تو وہ نفع بخش ثابت ہوتی ہیں اور اگر اس بات کو نظر انداز کیا جائے تو بجائے فائدہ کے نقصان کا موجب ہوتی ہیں۔اسی طرح خلافت بھی ایک خاص وقت اور ماحول کو چاہتی ہے۔قرآن کریم کا نزول ایسے