خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 49
خلافة على منهاج النبوة ۴۹ جلد سوم ہماری بزدلی پر محمول کرتے ہیں تو اس دن میں دوستوں سے کہہ دوں گا کہ میں ہر کوشش کر چکا لیکن تمہاری تکلیف کا علاج نہیں کر سکا اب تم جانو اور قانون۔کیونکہ قانون صرف اپنی پابندی کا مجھ سے مطالبہ کرتا ہے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ میں اس کے حکم سے بھی زیادہ لوگوں کو رو کے رکھوں۔جیسا کہ میں اب کر رہا ہوں کہ جہاں قانون اجازت دیتا ہے وہاں بھی تمہارے ہاتھ باندھے رکھتا ہوں۔قانون یہ تو حکم دے سکتا ہے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو مگر اپنے مذہب کو اس کی تائید میں استعمال کرنے کا مجھے پابند نہیں کر سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک جو احمدی جوش میں آتے ہیں وہ قانون کے منشاء سے بھی بڑھ کر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اور اس کا باعث میری وہ تعلیم ہے جو میں اسلام کے منشاء کے مطابق انہیں دیتا ہوں۔جب میری آواز اُنہیں آتی ہے کہ رُک جاؤ تو وہ رُک جاتے ہیں۔جیسا کہ احرار کے جلسہ پر ہوا کہ میں نے انہیں کہا کہ خواہ کوئی مارے تم آگے سے جواب نہ دوحالانکہ قانون خود حفاظتی کی اجازت دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گھروں میں احرار گھس گئے۔خود میری کوٹھی میں وہ لوگ آتے رہے اور بعض دوستوں نے ان کی تصاویر بھی لیں لیکن کسی نے انہیں کچھ نہ کہا حالانکہ گھر میں گھسنے والوں پر وہ قانو نا گرفت کر سکتے تھے لیکن آئندہ کے لئے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ حالات ایسی صورت اختیار کر رہے ہیں کہ ممکن ہے کسی وقت مجھے یہ بھی کہنا پڑے کہ میں اب تمہیں اپنے قانونی حق کے استعمال سے نہیں روکتا۔تم اپنے حالات کو خود سوچ لو ، میری طرف سے تم پر کوئی گرفت نہ ہو گی لیکن اُس وقت تک کہ میں کوئی ایسا اعلان کروں مجھے امید ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اپنے جوشوں کو اسی طرح دبائے رکھیں گے جس طرح کہ اس وقت تک دباتے چلے آئے ہیں۔اور اگر چہ حکومت کے متعلق ان کے دل کتنے ہی رنجیدہ کیوں نہ ہوں اور انہیں بہت بُری طرح مجروح کیا جا چکا ہو مگر پھر بھی وہ میری اطاعت سے باہر نہیں جا سکتے اور انہیں صبر سے کام لینا چاہئے۔میں جانتا ہوں کہ اس قسم کے مواقع پر کسی قسم کا ڈر یا خوف یا تعزیر کا خیال انسان کو نہیں روک سکتا۔میں نے مولوی رحمت علی صاحب کا واقعہ کئی بار سنایا ہے۔جس وقت ان کے کان میں یہ آواز پڑی کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں اور بعض احمدی زخمی ہو گئے ہیں تو وہ پاگل ہو کر اس مکان کی طرف جا رہے